ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 257

ملفوظات حضرت مسیح موعود براہین میں درج ہے۔ ۲۵۷ جلد سوم مولوی نذیر حسین دہلوی مولوی نذیر حسین دہلوی کی وفات کی خبر آنے پر الہام مر گیا اور اس کے مرنے کی خبر آئی تو آپ کی زبان پر اس کے لئے جاری ہوا مَاتَ ضَالٌ هَائِمًا ۔ ایک شخص نبی بخش نام ساکن بٹالہ نے آپ کو مسیح ناصری کے تعلق مروجہ ان کا نتیجہ نے ہوں اور اس نے لکھا کہ میں نے تمہیں ایک پرانی بائبل دی تھی وہ بھیج دو۔ لگا میں نے اس کو لکھا ہے کہ تم عیسائیوں سے کیا مباحثہ کرو گے؟ ان کی ساری باتیں تو تم خود مانتے ہو۔ عیسیٰ کو زندہ آسمان پر سمجھتے ہو۔ غیب دان اور مردوں کو زندہ کرنے والا کہتے ہو۔ اور پھر تمہارا یہ اعتقاد ہے کہ صرف وہی میں شیطان سے پاک ہے غرض اس قسم کے جب تمہارے عقائد ہیں تو پھر ان سے کیا بحث کرنی چاہتے ہو؟ اس سلسلہ کے بغیر اور کوئی صورت عیسائیوں سے مباحثہ کی نہیں رہی۔ ہمارے مخالفوں نے تو اقبالی ڈگری کرالی ہوئی ہے اور ان کے تمام عقائد باطلہ کی تائید کی ہوئی ہے۔ مسیح کو جو روح اللہ کہتے ہیں مسیح علیہ السلام کے رُوح منہ ہونے کی حقیقت اور عیسائی اس پر نازکرتے ہیں کہ یہ مسیح کی خصوصیت ہے یہ ان صوصیت ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے ان کو معلوم نہیں کہ قرآن شریف میں مسیح پر روح اللہ کیوں بولا گیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے مسیح ابن مریم پر خصوصیت کے ساتھ بہا احسان کیا ہے جو ان کا تبریہ کیا ہے بعض نا پاک فطرت یہودی حضرت مسیح کی ولادت پر بہت ہی نا پاک اور خطر ناک الزام لگاتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ بعض ولد اس قسم کے ہوتے ہیں کہ شیطان ان کی پیدائش میں شریک ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح اور حضرت مریم کے دامن کو ان اعتراضوں سے پاک کرنے کے لئے اور اس اعتراض سے بچانے کے لئے جو ولد شیطان کا لے چنانچہ اس الہام سے اس کی وفات کی تاریخ بھی نکلتی ہے۔ مَاتَ ضَالٌ هَائِمًا : ۱۳۲۰ھ