ملفوظات (جلد 3) — Page 258
ہوتا ہے قرآن شریف میں روح اللہ کہا۔اس سے خدائی ثابت کرنا حماقت ہے کیونکہ دوسری جگہ حضرت آدم کے لئے نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ(الـحجر: ۳۰) بھی تو آیا ہے۔یہ صرف تبریہ کیا ہے لیکن جو لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں وہ ان سے خاک بحث کریں گے۔۱ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (بروز جمعہ بعد نماز مغرب و عشاء) میاں احمد دین صاحب اپیل نویس گوجرانوالہ سے حسب الحکم حضرت اقدسؑ تشریف لائے ان کے اتنی جلد تشریف لانے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ریل بھی ایک عجیب شَے ہے ایک خارقِ عادت طور پر انسان کہیں کا کہیں جاپہنچتا ہے۔ایک شخص نے اپنی آنکھوں کے مرض سے شفا پانے کے لئے دعا کی در خواست کی۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔اچھا کریں گے۔پھر فرما یا۔یہ تمام آنکھ، کان، ناک وغیرہ اﷲ تعالیٰ کی امانتیں ہیں۔انعام کی بھی کیا عجیب راہ اختیار کی ہے۔اگر ایک آنکھ جاتی رہے تو کس قدر بَلا نازل ہوتی ہے۔پنجاب میں طاعون کی ترقی پھر حضرت اقدسؑ نے نواب محمد علی خان صاحب سے طاعون کا حال مالیر کوٹلہ کی طرف دریافت فرمایا۔نواب صاحب نے جواب دیا کہ کچھ شروع ہے مگر کم۔اب کے دفعہ رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ ہفتہ کی نسبت سے اس ہفتہ کل ہندوستان میں تو کم ہے مگر خاص پنجاب میں بہت ترقی پر ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ پنجاب ہی بگڑا ہوا ہے کوئی اس کا سِرّ تو دریافت کرے۔قادیان کے ارد گرد نواح کے پژاووں (آوی) میں آگ لگی ہوئی تھی۔اس لئے کل قصبہ کے ارد گرد اور اندر دھواں بہت تھا۔حضرت صاحب نے اپنے عمامہ کے شملہ سے ناک کو ڈھانپ لیا اور وہ شملہ پھر ٹھاٹھا یعنی داڑہا کی طرح بہت بے تکلّفی سے باندھ لیا اور فرمایا کہ دھواں بہت ہوتا جاتا ہے۔