ملفوظات (جلد 3) — Page 256
اس کے کہ وہ شریعت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔خواہ شریعت نہ بھی رکھتا ہو تب بھی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی دوسرا نبی آپ کے سوا اور آپ کے استفادہ سے الگ ہو کر نہیںآسکتا۔ساری براہین احمدیہ اس قسم کی باتوں سے بھری پڑی ہے اور بہت سے الہام اس کے ممدومعاون ہیں۔علاوہ اس کے كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ ( النّور :۵۶) میں جو استخلاف کا وعدہ ہے یہ بھی اسی اَمر پر صاف دلیل ہے کہ کوئی پرانا نبی اخیر تک نہ آوے ورنہ کَمَا باطل ہوتاہے اللہ تعالیٰ نے کَمَا کے نیچے تو مثیل کو رکھا ہے۔عین کو نہیں رکھا۔پھر یہ کس قدر غلطی اور جرأت ہے کہ خدا تعالیٰ کے منشا کے خلاف ایک بات اپنی طرف سے پیداکر لی جاوے اور ایک نیا اعتقاد بنالیاجاوے اور پھر کَمَا میں مدت کی بھی تعیین ہے کیو نکہ مسیحؑ موسٰی کے بعد چو دھویں صدی میں آیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ آنے والا محمدی مسیح بھی چو دھویں صدی میں آئے۔غرض یہ آیت ان تمام امور کو حل کرتی ہے اگر کوئی سوچنے والا ہو۔ابن مریم کے آنے سے مُراد ابن مریم کا سوال بھی خدا تعالیٰ نے بڑی صفائی سے حل کیا ہوا ہے۔سورۃ التحریم میں اس راز کو کھو ل دیا ہے کہ مومن مریم صفت ہوتا ہے اور پھر اس میں نفخِ روح ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اسی ترتیب سے پہلے میرا نام مریم رکھا۔پھر ایک وقت آیاکہ اس میں نفخِ روح ہوا۔اب مریم کے حمل سے جیسے مسیح پیدا ہوا جو اسی روح القدس کے نفخ کا نتیجہ تھا۔اس لئے یہاں خود مسیح بنا دیا۔براہین احمدیہ کو قرآن شریف کی اس آیت کے ساتھ جو سورہ تحریم میں بیان ہوئی رکھ کر دیکھو او رپھر اس ترتیب پر غور کرو کہ جو براہین میں رکھی ہے کہ پہلے مریم نام رکھا پھر نفخِ روح کیا اور پھر یاعیسیٰ کہہ کر پکارا اس آیت کی تفسیر کے لئے بھی دراصل یہی زمانہ تھا۔زمانہ بھی ایک قسم کی عقیم کی صورت پر ہوتا ہے۔اور روح اﷲ اس لئے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کو حضرت مسیح کا تبریہ منظور تھا کیونکہ بعض اولاد میں شیطان کی شرکت ہو جاتی ہے اس واسطے روح اﷲ کہہ کر اس الزام کو دُور کیا۔غرض حضرت مریم کے متعلق جس قدر واقعات قرآن شریف میں ہیں وہی الہام یہاں بھی موجود ہیں يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا در اصل جس قسم کی گھبراہٹ مریم کو تھی اسی قسم کا جوش اب بھی یہودیوں میں پیدا ہوا اور ایسا ہی اَنّٰی لَکَ ھٰذَا بھی