ملفوظات (جلد 3) — Page 226
یہ ساری باتیں چاہتی ہیں کہ کوئی ربّ ہے اور کوئی چیز مخلوق بھی ہے۔پس ہم کو اپنی خدائی کا ثبوت دیں۔خدا نے انسان کو مخلوق پیدا کیا ہے اور دنیا میں بھی مخلوق بنایا ہے۔پھر ہم چاند سورج وغیرہ کو کس طرح خدا مان لیں۔تمام انبیاء سے خوف ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔اگر ان میں کچھ بھی خدائی کا رنگ ہوتا تو خوف کیوں آتا۔میری جماعت میں بھی ایک شخص مولوی احمد جان صاحب وجودی تھے۔کبھی انہوں نے مجھ سے اس مسئلہ پر گفتگو نہیں کی۔اب تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور ساری عمر اسی میں گذار دی۔ہم کسی کے زرخرید نہیں۔ہم تو اسلم اور روشن تر راہ اختیار کرتے ہیں۔وجودیوں کے کوئی دشمن نہیں۔ہم تو ان کو قابل رحم سمجھتے ہیں۔اس پر نووارد صاحب نے آیت ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ الآیہ وحدت وجود کے ثبوت میں پیش کی۔فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کا کلام ایسا ہے کہ اس کی تفصیل بعض آیت کی بعض آیت سے ہوتی ہے۔اوّل کی تفسیر یہ ہے کہ کَانَ اللّٰہُ وَلَمْ یَکُنْ مَعَہٗ شَییٌٔ اٰخر کے معنے کئے۔کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ۔ہم تو انہیں معنوں کو پسند کریں گے جو خدا نے بتلائے ہیں۔افسوس ہے کہ اس زمانہ کے یہودی صوم و صلوٰۃ کے تو پابند ہی نہیں اور قرآن کو کبھی کھول کر دیکھا ہی نہیں۔ہاں میں اپنے اس ملک کی بات کرتا ہوں جس میں جالندھر، بٹالہ ہوشیار پور، سیالکوٹ وغیرہ شامل ہیں۔ان لوگوں کو میں نے شراب خوروں، بھنگیوں اور دہریوں کی مجلس میں اکثر دیکھا ہے۔اکثر کہتے ہیں کہ وجودی وہ ہے کہ جو خدا کانام بھی نہ لے بلکہ جو کچھ ہے مخلوق ہے۔پس یہ لوگ کہتے ہیں کہ اعلیٰ وجودی وہ ہے جس کو لوگ دہریہ کہتے ہیں۔پس ہر شخص اپنے قول و فعل کا خود ذمہ دار ہے۔و کان اللّٰہ و لم یکن معہ شییٔ حدیث ہے۔اور حدیث اور توریت سے ثابت ہے کہ خداتھا اور زمین اور آسمان وغیرہ میں سے کچھ نہ تھا۔یہ مسلّم مسئلہ ہے تمام اہل کتاب کا پس ہمارا اختیار