ملفوظات (جلد 3) — Page 225
مخلوق کی محبت ایک دل میں آکر جمع ہوتی ہے تو انسان پر ایک نیا رنگ چڑھتا ہے۔اور اس حالت میں وہ اپنے آپ کودیکھتا ہے کہ گویا بالکل خدا میں کھویاگیا ہے اور اپنے تئیں محو دیکھتا اور خدا ہی نظر آتا ہے۔وجود ی ایک حقیقت کاطلب گار ہوتاہے۔اس کو محبت سے کچھ تعلق نہیں۔جیسے آج کل کے وجودیوں کا دعویٰ ہی دعویٰ ہے کہ میں خدا ہوں۔شہود والا کہتا ہے کہ انسان انسان ہے خدا خدا ہے یعنی شہود کے طور پراپنے تئیں طالب اور خدامیں کھویا ہواپاتا ہے۔اگر انسان کو خدابنناتھا تو یا تو اس جہان میں خدا بنتایا آخرت میں خدابنتا۔مگر ثابت ہے کہ یہاں بھی انسان ہے اور وہاں بھی یہ جامہ تواس کے اوپر سے اترتانظر نہیں آتا۔ہم کہتے ہیں کہ ہر ایک شخص اپنا رنگ رکھتا ہے۔بہت لوگ قوالی میں ہی لذّت اُٹھاتے ہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ عارفانہ مشرب نہیں۔پس اگر اس کی کوئی دلیل دنیا میں ہوتی توچاہیے تھا کہ کوئی آدمی تو ایسا نظر آتا کہ جس میں خدائی کے صفات ہوتے۔دنیاوی لوگوں کے من گھڑت خدا اور خدا کے مرسل بندہ کامقابلہ یوں ہوسکتا ہے کہ مسیح کوتو خدا مانا اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے ایک مرسل تھے۔پس مقابلۃًدیکھ لو کہ مسیح کو تو پکڑ لیا گیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنے والا خود مَر گیا۔پس انصاف کرو کہ ایک شخص انسان کہلاتا اور اپناکام خدا پر چھوڑتا اس کا پکڑنے والاخود مارا جاتا۔یہودی جن کی صفت میں آیا ہے ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ( البقرۃ : ۶۲) وہ اس خدا کہنے والے کو ایک ہی گھنٹہ میں گرفتار کر لیتے اور مارنے کو تیار ہوجاتے ہیں فَاعْتَبِرُوْا يٰۤاُولِي الْاَبْصَارِ۔اگر کوئی یہ کہے کہ وہ محض خدائی تھی تو اس کو جانے دو۔جہاں تک ہم دیکھتے ہیں خداہم سے باتیں کرتا ہے اورخوارق اور معجزات دکھلاتا ہے پر پھر بھی ہم انسان ہیں۔دیوار کاوجود ایک الگ چیز ہے اور دھوپ کاوجود الگ ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ الی آخرالسورۃ (الفاتحہ)