ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 185

کے پتھر مارے کہ خون جاری ہو گیا۔تب آپؐنے فرمایا کہ کیسا وقت ہے۔مَیں کلام کرتا ہوں اور لوگ منہ پھیر لیتے ہیں اور پھر کہا کہ اے میرے ربّ! میں اس دکھ پر صبر کروں گا جب تک کہ تو راضی ہو جاوے۔اولیاء اور اہل اﷲ کا یہی مسلک اور عقیدہ ہوتا ہے۔سید عبدالقادر جیلانی لکھتے ہیں کہ عشق کا خاصہ ہے کہ مصائب آتے ہیں۔اُنہوں نے لکھا ہے۔؎ عشقا ! برآ ! تو مغز گرداں خوردی با شیر دلاں چہ رستمی ہا کردی اکنوں کہ بما روئے نبرد آوردی ہر حیلہ کہ داری نکنی نامردی مصائب او ر تکالیف پر اگر صبر کیا جاوے اور خدا تعالیٰ کی قضا کے ساتھ رضا ظاہر کی جاوے تو وہ مشکل کشائی کامقدمہ ہوتی ہیں۔؎ ہر بلا کیں قوم را او دادہ است زیر آں یک گنج ہا بنہادہ است آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تکالیف کا نتیجہ تھا کہ مکہ فتح ہو گیا۔دعامیں خدا تعالیٰ کے ساتھ شرط باندھنا بڑی غلطی اور نادانی ہے۔جن مقدس لوگوں نے خدا کے فضل اور فیوض کو حاصل کیا۔انہوں نے اس طرح حاصل کیا کہ خدا کی راہ میں مَر مَر کر فنا ہوگئے۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دس دن کے بعد گمراہ ہو جانے والے ہوتے ہیں۔وہ اپنے نفس پر خود گواہی دیتے ہیں جبکہ لوگوں سے شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی۔ہم لوگوں کی شامتِ اعمال کو روک نہیں سکتے۔وہ لوگ نا مُراد رہیں گے جو ولی اور مامور کا یہ معیار ٹھہراتے ہیں کہ اس کی ہر دعا اسی طرح قبول ہو جائے گی جس طرح وہ چاہتے ہیں۔اور جو ولی یا مامور ہونے کامدّعی ایسا دعویٰ کرے وہ بھی کذّاب ہے۔حضرت یعقوبؑ چالیس برس تک دعا کرتے