ملفوظات (جلد 3) — Page 184
ایک بچہ ابراہیم بھی تھا۔جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ دو تقسیمیں رکھ دی ہیں اور یہ اس کی سنّت ٹھہرچکی ہے اور یہ بھی اس نے فرمایا ہے لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا (الفتح : ۲۴) پھر کس قدر غلطی ہے جو انسان اس کے خلاف چاہے۔میں نے بارہا بتایا ہے کہ انسان کے ساتھ خدا نے دوستانہ معاملہ رکھا ہے۔کبھی ایک دوست دوسرے کی مان لیتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے۔اور دعا بندہ اور خدا میں بھاجی کی طرح ہیں۔اگر انسان یہ سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کمزور رعایا کی طرح ہر بات مان لے تو یہ نقص ہے۔ماں بھی بچہ کی ہر بات نہیں مان سکتی۔کبھی بچہ آگ کی انگاریاں مانگتا ہے تو وہ کب دیتی ہے یا مثلاً آنکھیں دُکھتی ہوں تو اسے زنک یا اور کوئی دوا ڈالنی ہی پڑتی ہے۔اسی طرح پر بندہ چونکہ تکمیل کا محتاج ہے۔اُسے ماروںکی ضرورت ہے تاکہ وہ صدق و وفا اور ثباتِ قدم میں کامل ثابت ہو۔پھر دعا کرانے والے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صابر ہو۔جلد باز نہ ہو۔جو ذرا سی بات پر دجّال کہنے کو تیار ہے پس وہ کیا فائدہ اٹھائے گا۔اسے تو چاہیے کہ صبر کے ساتھ انتظار کرے اور حُسنِ ظن سے کام لے۔جب کہ خدا تعالیٰ نے لَنَبْلُوَنَّكُمْ فرمایا ہے تو صبر کرنے والوں کے لیے بشارت دی اور اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ بھی فرمایا۔میرے نزدیک اس کے یہی معنی ہیں کہ قبولیتِ دعا کی ایک راہ نکال دیتا ہے۔حکّام کا بھی یہی حال ہے کہ جس پر ناراض ہوتے ہیں اگر وہ صبر کے ساتھ برداشت کرتا اور شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا تو اسے ترقی دیدیتے ہیں۔قرآن شریف سے صاف پایا جاتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ابتلا آویں جیسے فرمایا اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (العنکبوت : ۳) یعنی کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف اٰمَنَّا کہنے سے چھوڑے جائیں اور وہ فتنوں میں نہ پڑیں۔انبیاء علیہم السلام کو دیکھو اوائل میں کس قدر دکھ ملتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف دیکھو کہ آپ کو مکی زندگی میں کس قدر دکھ اٹھانے پڑے۔طائف میں جب آپ گئے تو اس قدر آپ