ملفوظات (جلد 3) — Page 186
رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ کی مکی زندگی میں مصائب بڑھتے رہے کیا آپ دعا نہ کرتے ہوں گے؟ جو لوگ آسمانی علوم سے ناواقف ہیں وہ ان اسرار کو نہیں سمجھ سکتے۔ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور وہ اندھا ہو گیا۔اس نے کہا کہ اسلام میرے لیے مبارک نہیں، اس لیے مرتد ہو گیا۔ایسے لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔میں نے ایک جگہ دیکھا ہے کہ امام حسین رضی اﷲ عنہ فتوحات کے لیے دعا کرتے تھے۔ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔آپؐنے فرمایا کہ تیرے لیے شہادت مقدر ہے اگر تو صبر نہ کرے گا تو اخیار ابرار کے دفتر سے تیرا نام کٹ جائے گا۔نماز بھی ظہر ہی سے شروع ہوتی ہے جو زوال کا وقت ہے۔یہاںتک کہ غروب تک بالکل تاریکی میں جا پڑتا ہے اور رات میں دعائیں کرتا ہے۔یہانتک کہ صبح میں سے جا حصہ لیتا ہے۔نماز کی تقسیم بھی بتاتی ہے کہ خدا نے اس تقسیم میں ایک صبح اور باقی چار ایسی رکھی ہیں جو تاریکی سے حصہ رکھتی ہیں ورنہ ممکن تھا کہ اقبال تک ختم ہو جاتیں۔ایسا ہی سورۂ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ایسے لفظ رکھے ہیں جو اس منشا کو ظاہر کرتے ہیں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ سے صاف پایا جاتا ہے کہ کچھ نہیں چاہتے، تیری عبادت کرتے ہیں اور اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ سے دعا کرتے ہیں۔گویا اِيَّاكَ نَعْبُدُ اور اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْاور لَنَبْلُوَنَّكُمْ کو ملایا ہے۔نَعْبُدُ تو یہی ہے کہ بھلائی اور برائی کا خیال نہ رہے، سلب امید و امانی ہو۔اور اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں دعا کی تعلیم ہے۔(بوقتِ ظہر) خواجہ غلام فرید صاحب کا ذکر خیر خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے کا ذکر ہوا فرمایا۔اس نے اپنے خط میں بڑی صفائی سے لکھ دیا تھا کہ میں آپ کے دعویٰ کامصدّق ہوں اور میں