ملفوظات (جلد 3) — Page 6
قبل از وقت چاہنے والاہو۔مثلاً گر بیاہ کے دس دن بعد مرد و عورت یہ خواہش کریں کہ اب بچہ پیدا ہو جاوے تو یہ کیسی حماقت ہوگی، اس وقت تو اسقاط کے خون اور چھچھڑوں سے بھی بے نصیب رہے گی۔اسی طرح جو سبزہ کو نمونہیں دیتاوہ دانہ پڑنے کی نوبت ہی نہیں آنے دیتا۔میںنے ارادہ کیاہواہے کہ ایک بار اورشرح وبسط کے ساتھ دعا کے مضمون پر ایک رسالہ لکھوں۔مسلمان دعاسے بالکل ناواقف ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ جن کو بد قسمتی سے ایسا موقع ملاکہ دعا کریں مگر انہوں نے صبر اور استقلال سے چونکہ کام نہ لیااس لیے نامُراد رہ کر سیّداحمدخانی مذہب اختیارکر لیا کہ دعاکوئی چیزنہیں۔یہ دھوکااور غلطی اس لیے لگتی ہے کہ وہ لوگ حقیقت دعاسے ناواقف محض ہوتے ہیں اور اس کے اثر سے بے خبر اور اپنی خیالی امیدوں کوپورانہ ہوتے دیکھ کر کہہ اُٹھتے ہیں کہ دعاکوئی چیز نہیں ہے اور اس سے بر گشتہ ہو جاتے ہیں۔دعا ربوبیت اورعبودیت کاایک کامل رشتہ ہے۔اگر دعاؤں کا اثر نہ ہوتاتو پھر اس کاہونانہ ہونا برابر ہے۔۱ قبولیتِ دعاہستی باری تعالیٰ کی زبردست دلیل ہے اللہ تعالیٰ کی شناخت کی یہ زبردست دلیل اور اُس کی ہستی پر بڑی بھاری شہادت ہے کہ محو و اثبات اُس کے ہاتھ میں ہے يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ(الرّعد:۴۰) دیکھواجرام سماوی کتنے بڑے اور عظیم الشان نظر آتے ہیںاور ان کی عظمت کو دیکھ کر ہی بعض نادان اُن کی پرستش کی طرف جھک پڑے ہیں او رانہوں نے اُن میں صفات ِالٰہیہ کو مان لیا جیسے ہندویا اَور دوسرے بُت پرست یاآتش پرست وغیرہ جو سورج کی پوجاکرتے ہیں او راس کو اپنا معبود سمجھتے ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سورج اپنے اختیار سے چڑھتاہے یاچھپتاہے؟ ہرگز نہیں اور اگر وہ کہیں بھی تووہ اس کا کیاثبوت دے سکتے ہیں۔وہ ذرا سورج کے سامنے یہ دعا تو کریں کہ ایک دن وہ نہ چڑھے یا دوپہر کو مثلاً چُھپ جاوے تاکہ معلوم ہو کہ وہ کوئی اختیار اور ارادہ بھی