ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 5

انسان اپنے عزم اور عقدہمت میں پختہ ہوجاوے اورمعرفت میں استحکام اور رُسوخ ہو۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر انسان اعلیٰ مراتب اور مدارج کو حاصل کرناچاہتا ہے اُسی قدر اس کو زیادہ محنت اور دقّت کی ضرورت ہوتی ہے۔پس استقلال اور ہمت ایک ایسی عمدہ چیز ہے کہ اگر یہ نہ ہوتو انسان کامیابی کی منزلوں کو طے نہیں کر سکتا۔اس لیے ضروری ہوتاہے کہ وہ پہلے مشکلات میں ڈالا جاوے۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا(الم نشـرح:۷) اسی لیے فرمایا ہے۔دنیا میں کوئی کامیابی او ر راحت ایسی نہیں ہے جس کے ابتدا اوراوّل میں کوئی رنج اور مشکل نہ ہو۔ہمت کو نہ ہارنے والے مستقل مزاج فائدہ اُٹھالیتے ہیں اور کچے اور ناواقف راستہ میں ہی تھک کر رہ جاتے ہیں۔پنجابی میں کسی نے کہا ہے۔ایہو ہیگی کیمیا جے دن تھوڑے ہو پس جب خدا پر سچا ایمان ہو کہ وہ میری دعاؤں کوسننے والا ہے تو یہ ایمان مشکلات میں بھی ایک لذیذایمان ہو جاتاہے اور غم میں ایک اعلیٰ یاقوتی کاکام دیتاہے۔ہموم وغموم کے وقت اگر انسان کو کوئی پناہ نہ ہو تو دل کمزور ہوتا جاتاہے او رآخر وہ مایوس ہوکر ہلاک ہو جاتا اور خود کشی کرنے پر آمادہ ہوتا بلکہ بہت سے ایسے بدقسمت یورپ کے ملکوں میں خصوصاًپائے جاتے ہیںجوذراسی نامُرادی پر گولی کھاکر مَر جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کاخود کشی کرنا خود اُن کے مذہب کی موت اورکمزوری کی دلیل ہے۔اگر اُس میں کوئی قوت اور طاقت ہوتی تو اپنے ماننے والوں کو ایسی یاس اور نامُرادی کی حالت میں نہ چھوڑتا۔لیکن اگر خدا تعالیٰ پر اُسے ایمان ہے او راس قادر کریم ہستی پر یقین رکھتاہے کہ وہ دعائیں سنتاہے تو اس کے دل میں ایک طاقت آتی ہے۔حقیقت ِ دعا یہ دعائیں حقیقت میں بہت قابل قدر ہوتی ہیں اور دعاؤں والا آخر کار کامیاب ہو جاتا ہے ہاں یہ نادانی اور سُوءِ اَدب ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ساتھ لڑنا چاہے۔مثلاًیہ دعاکرے کہ رات کے پہلے حصہ میں سورج نکل آوے اس قسم کی دعائیں گستاخی میں داخل ہوتی ہیں وہ شخص نقصان اُٹھاتاہے اور ناکام رہتاہے جو گھبر انے والااور