ملفوظات (جلد 3) — Page 103
وہ زندہ ہے کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے؟ رجوع کا لفظ صعود کے بعدہوتا ہے پھر جو لوگ مسیح کے مع وجود عنصری آسمان پر چڑھنے کو ثابت کرتے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ مسیح کا رجوع ثابت کریں کیونکہ نزول کے لیے صعود لازم نہیں ہے۔صدق و وفا حدیث میںآیا ہے کہ صوم وصلوٰ ۃسے درجہ نہیں ملتا بلکہ اس بات سے جو انسان کے دل میں ہے یعنی صدق ووفا۔خدا یہی چاہتاہے کہ عمل صالح ہو اور اس کا اخفاء ہو ریاکاری نہ ہو۔صدق بڑی چیز ہے اس کے بغیرعمل صالح کی تکمیل نہیںہوتی۔خدا تعالیٰ اپنی سنّت نہیں چھوڑتا اور انسان اپنا طریق نہیں چھوڑنا چاہتا۔اس لیے فرمایا ہے وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰ ) خدا تعالیٰ میںہوکر جومجاہدہ کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ اپنی راہیں کھول دیتا ہے۔وحد ت الوجود بُت پرست بھی وجودیوںکی طرح اپنے بتوں کو مظاہر ہی مانتے ہیں۔قرآن شریف اس مذہب کی تردیدکرتا ہے۔وہ شروع ہی میںیہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ اگر مخلوق اور خالق میں کوئی امتیاز نہیں بلکہ دونوں برابر اور ایک ہیں تو رَبِّ الْعٰلَمِيْنَنہ کہتا۔اب عالم تو خدا تعالیٰ میں داخل نہیں ہے کیونکہ عالم کے معنے ہیں مَایُعْلَمُ بِہٖ اور خدا تعالیٰ کے لیے ہے لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ (الانعام: ۱۰۴ )۔موجودات کو جو وہ عین اللہ کہتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔قرآن شریف نے عین اور غیر کی کوئی بحث نہیں کی، محی الدین ابنِ عربی سے جو منسوب کرتے ہیں کہ اس نے لکھا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَشْیَآءَ وَھُوَعَیْنُھَا یہ بات صحیح نہیں ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ( بنی اسرآءیل: ۳۷ ) جب انسان کوکچھ بھی خبر نہیں پھر بتاؤ کہ غیب کہاں رہی۔یہ تو پکی بات ہے کہ صفات کسی چیز کے اس سے الگ نہیںہوتے خواہ وہ کہیں چلی جاوے۔پانی کو خواہ لندن لے جاؤآخر وہ پانی رہے گا۔جب انسان خداہو تو اس کی صفات اس سے کیوں الگ ہونے لگیں خواہ کسی حالت میں ہو۔