ملفوظات (جلد 3) — Page 102
سچی بات ہے اس کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ جس نے نبی کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کردیا۔رسم اورعادت کی غلامی سے انسان اسی وقت نکل سکتا ہے جب وہ عرصہ دراز تک صادقوں کی صحبت اختیار کرے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلے۔مَایَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ یہ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ ( الرّعد: ۱۸ ) حقیقت یہی ہے کہ جو شخص دُنیا کے لیے نفع رساں ہو اس کی عمر دراز کی جاتی ہے۔اس پر جو یہ اعتراض کیا جاتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چھوٹی تھی۔یہ اعتراض صحیح نہیں ہے۔اوّل اس لیے کہ انسانی زندگی کا اصل منشا اور مقصدآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل کر لیا۔آپ دنیا میں اس وقت آئے جب کہ دنیا کی حالت بالطّبع مصلح کو چاہتی تھی اور پھر آپ اُس وقت اُٹھے جب پوری کامیابی اپنی رسالت میں حاصل کر لی۔اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المآئدۃ:۴) کی صدا کسی دوسرے آدمی کو نہیں آئی اور اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (النّصر :۲،۳) پوری کامیابی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اب جس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے طور پر کامیاب ہو کر اُٹھے پھر یہ کہنا کہ آپ کی عمر تھوڑی تھی سخت غلطی ہے۔اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوض اَبدی ہیں اور ہر زمانہ میں آپ کے فیوض کا در وازہ کُھلا ہوا ہے۔اس لئے آپ کو زندہ نبی کہا جا تا ہے اور حقیقی حیات آپ کو حاصل ہے طولِ عمر کا جو مقصدتھا وہ حاصل ہو گیا اور اس آیت کے موافق آپ ابدا لآباد کے لئے زندہ رہے۔مسیح علیہ السلام کی وفات کے دو گواہ مسیح علیہ السلام کی وفات پر دو زبر دست گواہیاں علاوہ اور گو اہوں کی شہادت کے موجود ہیں جن کا انکار ہرگز نہیںہوسکتا۔اوّل خدا تعالیٰ کی شہادت جس نے يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ (اٰل عـمران :۵۶) فرمایا ہے اور پھر دوسری شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت کی ہے۔آپ نے یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت مسیح کو دیکھا۔اب ان دو گواہوں کے خلاف یہ کہنا ہے کہ