ملفوظات (جلد 3) — Page 104
استحالہ کے ساتھ اس کے صفات معدوم ہوجاتے ہیں۔ہر ایک چیز کابقا تو اس کے صفات ہی کے ساتھ ہے۔اگر ایک پھول کے صفات اُس کے ساتھ نہیں تو وہ پھول کیوں کر ہوسکتا ہے۔پس اگر انسان خداہے تو پھر ا س کی خدائی کے صفات اس کے ساتھ ہونے ضروری ہیں۔اگر صفات نہیں تو پھر نادانی سے اُسے خدا بنایا جاتاہے۔انسان ایسی ایسی مصیبتوں اور مشکلات میںگرفتار ہوتا ہے کہ ٹکریںمارتا پھرتاہے اور ایسا سرگردان ہوتا ہے کہ کچھ پتہ نہیں لگتا ہزاروں آرزوئیںاور تمنّائیں ایسی ہوتی ہیں کہ پوری ہونے میں نہیں آتیں۔کیا خدا تعالیٰ کے ارادے بھی اس قسم کے ہوتے ہیں کہ پورے نہ ہوں۔اس کی شان تو یہ ہے اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ( یٰسٓ : ۸۳)۔اس سے صا ف معلوم ہوتا ہے کہ وہ جو انسان کواپنے ارادوں میںنامُراد کرتا ہے۔وہ کوئی الگ اور طاقتور ہستی ہے اگر دونوں ایک ہوتے تویہ نامُرادی نہ ہونے پاتی۔یہ باتیں قرآن شریف کی تعلیم کے صریح خلاف ہیں اور خدا تعالیٰ کے حضور خطرناک گستاخی کی باتیں ہیں۔اس قسم کے اعتراض کرنا کہ پھر دنیا کہاں سے بنائی۔بے ادبی ہے۔جب خدا تعالیٰ کو قادر مان لیا پھر ایسے اعتراض کیوں کیے جاویں۔آریہ بھی اس قسم کے اعتراض کیا کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کو اپنی قوت اور طاقت کے پیمانہ سے ناپنا چاہتے ہیں۔پھر دیکھو وجودیوں کے بڑے بڑے صُوفی مَرے ہیں اور مَرتے ہیں۔اگر وہ خدا تھے تو ان کوتو اس وقت خدائی کا کرشمہ دکھانا چاہیے تھا نہ یہ کہ عاجز انسان کی طرح تڑپ کر جان دے دیتے۔یاد رکھو انسان کی سعادت یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں اپنا دخل نہ دے بلکہ اپنی عبودیت کا اعتراف کرے۔ہمارا تو یہ ایمان اور مذہب ہے کہ ایک فوق الفوق قادر ہستی ہے جو ہم پر کام کرتی ہے۔جدھر چاہتی ہے لے جاتی ہے۔وہ خالق ہے ہم مخلوق ہیں۔وہ حیّ قیّوم ہے اور ہم ایک عاجز مخلوق۔قرآن شریف میں جو حضرت سلیمان اور بلقیس کا ذکر ہے کہ اس نے پانی کو دیکھ کر اپنی پنڈلی سے کپڑا اُٹھایا اس میں بھی یہی تعلیم ہے جو حضرت سلیمان نے اس عورت کو دی تھی وہ دراصل آفتاب پرستی کرتی تھی، اس کو اس طریق سے انہوں نے سمجھایا کہ جیسے یہ پانی شیشہ کے اندر چل رہا ہے