ملفوظات (جلد 2) — Page 87
تفسیر سورہ فاتحہ تفسیر سورۃ فاتحہ ابھی تک لکھنی شروع نہیں ہوئی اور دن تھوڑے سے رہ گئے ہیں۔اس پر فرمایا۔اب تک ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا لکھیں۔توکّلًا علی اللہ اس کام کو شروع کیا گیا ہے۔ہم موجودہ مواد پر بھروسہ نہیں رکھتے۔صرف خدا پر بھروسہ ہے کہ کوئی بات دل میں ڈالی جائے۔یہ بات میرے اختیار میں نہیں۔جب وہ مواد اور حقائق جن کی تلاش میں مَیں ہوں مجھے مل گئے تو پھر اُن کو فصیح بلیغ عربی میں لکھا جائے گا۔چونکہ انسانوں کو ثواب حاصل کرنے کے واسطے فکر اُٹھانا چاہیے اس واسطے ہم فکر کرتے ہیں۔آگے جب کوئی بات خدا تعالیٰ القا کرے۔خدا سے دعا مانگی جاتی ہے اور میرا تجربہ ہے کہ جب خدا سے مدد مانگی جاتی ہے تو وہ مدد دیتا ہے۔(تفسیر سے پہلے جوتمہید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھی ہے۔اس کے متعلق حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب نے عرض کی کہ پیر گولڑوی تفسیر نویسی سے پہلے ایک تقریر اور مباحثہ چاہتا تھا۔سو اس تمہید میں یہ بھی ہوگیا۔حضرت سید احمدشہید ؒ اور مولوی محمد اسمٰعیل شہیدؒ کا ذکر درمیان میں آیا۔) فرمایا۔ان لوگوں کی نیتیں نیک تھیں وہ چاہتے تھے کہ ملک میں نماز اور اذان اور قربانی کی رکاوٹ جو کہ سکھوں نے کر رکھی تھی دور ہوجائے۔خدا نے اُن کی دعاکو قبول کیا اور اس کی قبولیت کو سکھوں کے دفعیہ اورانگریزوں کو اس ملک میں لانے سے کیا۔یہ اُن کی دانائی تھی کہ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ لڑائی نہیں کی بلکہ سکھوں کو اس قابل سمجھا کہ اُن کے ساتھ جہاد کیا جاوے مگر چونکہ وہ زمانہ قریب تھا کہ مہدی موعود کے آنے سے جہاد بالکل بند ہو جائے۔اس واسطے جہاد میں اُن کو کامیابی نہ ہوئی۔ہاں بسبب نیک نیت ہونے کے اُن کی خواہش اذانوں اور نمازوں کے متعلق اس طرح پوری ہوگئی کہ اس ملک میں انگریز آگئے۔مسیح موعود اور مہدی کے آنے کا وقت پھر فرمایا۔وقت دو ہوتے ہیں۔ایک خارجی اور ایک اندرونی یعنی روحانی۔خارجی وقت یہ ہے کہ حضرت رسول کریمؐ اور ولیوں اور بزرگوں کے کشوف نے مسیح موعود اور مہدی کا وقت