ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 88

۲۲؍ جنوری ۱۹۰۱ء جماعتِ احمدیہ کی وجہ تسمیہ (اس جماعت کا نام احمدی رکھا جانے پر کسی نے سنایا کہ کوئی اعتراض کرتاتھا کہ یہ نیا نام ہے۔اس پر کچھ گفتگو ہوئی۔) فرمایا۔لوگوں نے جو اپنے نام حنفی، شافعی وغیرہ رکھے ہیں یہ سب بدعت ہیں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہی نام تھے۔محمد اور احمدصلی اللہ علیہ وسلم۔آنحضرتؐکا اسمِ اعظم محمد ؐ ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔جیساکہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم اللہ ہے۔اِسم اللہ دیگر کل اسماء مثلاً حیّ، قیّوم، رحـمٰن، رَحیم وغیرہ کا موصوف ہے۔حضرت رسول کریمؐ کا نام احمدؐ وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیحؑ نے کیا يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ ( الصّف :۷) مِنْۢ بَعْدِيْ کا لفظ ظاہرکرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔حضرت موسٰی نے یہ الفاظ نہیں کہے بلکہ اُنہوں نے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ۔۔۔۔۔۔(الفتح:۳۰) میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے۔جب بہت سے مومنین کی معیّت ہوئی جنہوں نے کفّار کے ساتھ جنگ کئے۔حضرت موسٰی نے آنحضرتؐکا نام محمد بتلایا صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ حضرت موسٰی خود بھی جلالی رنگ میں تھے اور حضرت عیسٰی ؑنے آپؐکا نام احمدؐ بتلایا کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جمالی رنگ میں تھے۔اب چونکہ ہمارا سلسلہ بھی جمالی رنگ میں ہے۔اس واسطے اس کا نام احمدی ہوا۔فرمایا۔جمعہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیدا ہونے کا دن تھا اور یہی متبرک دن تھا مگر پہلی اُمتوں نے غلطی کھائی۔کسی نے شنبہ کے دن کو اختیار کیا اور کسی نے یکشنبہ کے دن کو۔۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۱ ء صفحہ۱۱