ملفوظات (جلد 2) — Page 66
ہوئی اور اس پر بھی بس نہ کی بلکہ تعاقب کیا اور اپنی طرف سے کو ئی دقیقہ تکلیف دہی اور ایذا رسانی کا باقی نہ رکھا تو آپ مدینہ تشریف لائے اور پھر حکم ہوا کہ مداخلت کی جاوے۔اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور جلالِ الٰہی نے اسم محمدؐ کا جلوہ دکھانے کا ارادہ فرمایا جس کا ظہور مدنی زندگی میں ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں آنے کی غرض و غایت تو صرف یہ تھی کہ دنیا پر اس خدا کا جلال ظاہر کریں جو مخلوق کی نظروں اور دلوںسے پوشیدہ ہو چکا تھا اور اس کی جگہ باطل اور بیہودہ معبودوں، بتوں اور پتھروں نے لے لی تھی اور یہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جمالی اور جلالی زندگی میں جلوہ گری فرماتا اور اپنے دستِ قدرت کا کرشمہ دکھاتا۔محبوبِ الٰہی بننے کے لئے واحد راہ اطاعتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک کامل نمونہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور محبوب الٰہی بننے کا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ (اٰل عـمران:۳۲) یعنی ان کو کہہ دو کہ تم اگر چاہتے ہو کہ محبوبِ الٰہی بن جاؤ اور تمہارے گنا ہ بخش دیئے جاویں تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔کیا مطلب کہ میری پیروی ایک ایسی شے ہے جو رحمت الٰہی سے نا اُمید ہونے نہیں دیتی۔گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور تمہارا یہ دعویٰ کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اسی صورت میں سچا اور صحیح ثابت ہو گا کہ تم میری پیروی کرو۔اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے کسی خود تراشیدہ طرز ریاضت ومشقت اور جپ تپ سے اللہ تعالیٰ کا محبوب اور قربِ الٰہی کا حق دار نہیں بن سکتا۔انوار و برکاتِ الٰہیہ کسی پر نازل نہیں ہو سکتی جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کھویا نہ جاوے۔اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گم ہو جاوے اور آپ کی اطاعت اور پیروی میں ہر قسم کی موت اپنی جان پر وارد کر لے اس کو وہ نورِ ایمان،محبت اور عشق دیا جاتا ہے جو غیر اللہ سے رہائی دلا دیتا ہے