ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 65

یہاں تک کہ آنحضرت نے یہ بھی کہا کہ سَـجَدَ لَکَ رُوْحِیْ وَجَنَانِیْ یعنی اے میرے مولیٰ میری روح اور میرے دل نے بھی تجھے سجدہ کیا۔حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ ان دعا ؤں کو سن سن کر جگر پاش پاش ہوتا تھا۔آخر میرے ہاتھ سے ہیبت حق کی وجہ سے تلوار گر پڑی۔میں نے آنحضرتؐکی اس حالت سے سمجھ لیا کہ یہ سچاہے اور ضرور کامیاب ہو جائے گا۔مگر نفسِ امّارہ بُرا ہوتا ہے۔جب آپ نماز پڑھ کر نکلے مَیں پیچھے پیچھے ہو لیا۔پاؤں کی آہٹ جو آپؐکو معلوم ہوئی۔رات اندھیری تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ عمر۔آپ نے فرمایا کہ اے عمر! نہ تو رات کو پیچھا چھوڑتا ہے اور نہ دن کو۔اس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کی خوشبو آئی اور میری روح نے محسوس کیا کہ آنحضرتؐبد دعا کریں گے۔میں نے عرض کیا یا حضرت!بد دعا نہ کریں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ وہ وقت اور وہ گھڑی میرے اسلام کی تھی۔یہاں تک کہ خدا نے مجھے توفیق دی کہ میں مسلمان ہو گیا۔اب سوچو کہ اس تضرّع اور بُکا میں کیسی تلوار مخفی تھی کہ جس نے عمر جیسے انسان کو جو قتل کے لیے معاہدہ کرکے آتا ہے اپنی ادا کا شہید کر لیا۔اس توجہ اور زاری میں ایسی تلوار ہوتی ہے جو سیف وسنان سے بڑھ کر کام کرتی ہے۔غرض وہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کاا سم احمد کے ظہور کا زمانہ تھا اس لئے مکہ میں عاشقانہ رنگ کا جلوہ دکھایا۔اپنے آپ کو خاک میں ملا دیا اور ہزاروں موتیں اپنے آپ پر وارد کر لیں۔اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس جوش ،وفا،تضرّع، اور دعا وبکا کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ان موتوں کے بعد وہ قوت وہ زندگی آپؐکو ملی کہ ہزاروں لاکھوں مُردوں کے زندہ کرنے والا ٹھہرے اور حاشر الناس کہلائے اور اب تک اپنی قوت قدسی کے زور سے کروڑہا مُردوں کو زندہ کررہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔پس اس مکی زندگی اور عاشقانہ ظہور کے بعد جو اسم احمدؐ کی تجلی تھی دوسرا دور آپ کی جلالی زندگی اسم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہور کا معشوقانہ شان میں ہوا جبکہ مکہ والوں کی دشمنی کی انتہا ہو چکی اور دعاؤں اور توجہ کی حد ہو گئی۔نابکار مخالفوں کی عداوت حد سے بڑھ کر بیت اللہ سے نکال دینے کا باعث