ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 67

اور گناہوں سے رستگاری اور نجات کا موجب ہوتا ہے۔اسی دنیا میں وہ ایک پاک زندگی پاتا ہے اور نفسانی جوش وجذبات کی تنگ وتاریک قبروںسے نکال دیا جاتا ہے۔اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے اَنَا الْـحَاشِـرُ الَّذِیْ یُـحْشَـرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ یعنی میں وہ مُردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔غرض یہ ہے کہ وہ علوم جو مدارِ نجات ہیں یقینی اور قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیںہو سکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن شریف کی یہ آیت صاف طور پر اور پکار کر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ حیات روحانی صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ملتی ہے اور وہ تمام لوگ جو بخل اور عناد کی وجہ سے نبی کریمؐ کی متا بعت سے سر کش ہیں وہ شیطان کے سایہ کے نیچے ہیں۔اس میں اس پاک زندگی کی روح نہیں ہے۔وہ بظاہر زندہ کہلاتا ہے لیکن مُردہ ہے جبکہ شیطان اس کے دل پر سوار ہے۔موت کو یاد رکھیں افسوس اس کو موت یاد نہیں ہے۔موت کیا دُور ہے؟ جس کی پچاس برس کی عمر ہو چکی ہے اگر وہ زندگی پالے گا تو دوچار برس اور پالے گا یا زیادہ سے زیادہ دس برس اور آخر مرنا ہوگا۔موت ایک یقینی شَے ہے جس سے ہرگز ہرگز کوئی بچ نہیں سکتا۔مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ روپیہ پیسہ کے حساب میں ایسے غلطاں پیچاں رہتے ہیں کہ کچھ حد نہیں مگرعمر کا حساب کبھی بھی نہیں کرتے۔بدبخت ہے وہ انسان جس کو عمر کے حساب کی طرف توجہ نہ ہو۔سب سے ضروری اور حسا ب کے لائق جو شَے ہے وہ تو عمر ہی ہے۔ایسانہ ہو کہ موت آجائے اور یہ حسرت لے کر دنیا سے کُوچ کرے۔قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ جیسے بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہوجاتی ہے جہنم کی زندگی بھی یہاں ہی سے شروع ہوجاتی ہے۔جب انسان حسرت کے ساتھ مَرتا ہے تو بہت بڑے جہنم میں ہوتا ہے جب دیکھتا ہے کہ اب چلا۔ہیضہ، طاعون، محرقہ، خفقان یا کسی اور شدید مرض میںمبتلا ہوتا ہے تو موت سے پہلے ایک موت وارد ہوجاتی ہے جو دل اور رُوح کو فرسودہ کردیتی ہے اور وہ بھی حسرت ہوتی ہے۔بعض امراض ایسے ہیں کہ دو منٹ بھی دَم لینے نہیں دیتے اور جھٹ پٹ کام تمام کردیتے ہیں۔جس نے ایک دن بھی مطالعہ کیا کہ مَیں مرنے ولا جانور