ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 64

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۴ جلد دوم مصروف رہتے تھے سب کے سب ہلاک ہوئے اور باقیوں کو اس کے حضور عاجزی اور منت کے ساتھ اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے معافی مانگنی پڑی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دیکھو کس قدر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام فائدہ پہنچا۔ ایک زمانہ میں یہ ایمان نہ لائے تھے اور چار برس کا توقف ہو گیا ۔ اللہ تعالیٰ خوب مصلحت سمجھتا ہے کہ اس میں کیا سر تھا۔ ابو جہل نے تلاش کی کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جاوے جو رسول اللہ کو قتل کر دے۔ اس وقت حضرت عمر بڑے بہادر اور دلیر مشہور تھے اور شوکت رکھتے تھے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کے اللہ علیہ کے قتل کا بیڑا اٹھایا اور معاہدہ پر حضرت عمر اور ابوجہل کے دستخط ہو گئے اور قرار پایا کہ اگر عم قتل کر آویں تو اس قدر رو پیر د یا جاوے۔ لے اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ جو ایک وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کے لئے جاتے ہیں ۔ دوسرے وقت وہی عمر رضی اللہ عنہ اسلام میں ہو کر خود شہید ہوتے ہیں ۔ وہ کیا عجیب زمانہ تھا !!! غرض اس وقت یہ معاہدہ ہوا کہ میں قتل کرتا ہوں ۔ اس تحریر کے بعد آپ کی تلاش اور تجس میں لگے راتوں کو پھرتے تھے کہ کہیں تنہا مل جائیں تو قتل کر دوں ۔ لوگوں سے دریافت کیا کہ آپ تنہا کہاں ہوتے ہیں ۔ لوگوں نے کہا کہ نصف رات گزرنے کے بعد خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھا کرتے ہیں۔ حضرت عمر یہ سن کر بہت ہی خوش ہوئے چنانچہ خانہ کعبہ میں آکر چھپ رہے۔ جب تھوڑی دیر گزری تو جنگل سے لا اله الا الله کی آواز آتی ہوئی معلوم ہوئی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی آواز تھی۔ اس آواز کوسن کر اور یہ معلوم کر کے کہ وہ ادھر ہی کو آرہی ہے حضرت عمر اور بھی احتیاط کر کے چھپے اور یہ ارادہ کر لیا کہ جب سجدہ میں جائیں گے تو تلوار مار کر سر مبارک تن سے جدا کر دوں گا۔ آپ نے آتے ہی نماز شروع کر دی۔ پھر اس سے آگے کے واقعات خود حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ میں اس قدر رو رو کر دعائیں کیں کہ مجھ پر لرزہ پڑنے لگا الحکم جلد ۵ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۲ تا ۴