ملفوظات (جلد 2) — Page 64
مصروف رہتے تھے سب کے سب ہلاک ہوئے اورباقیوں کو اس کے حضور عاجزی اور منّت کے ساتھ اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے معافی مانگنی پڑی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دیکھو کس قدر فائدہ پہنچا۔ایک زمانہ میں یہ ایمان نہ لائے تھے اور چار برس کا توقف ہو گیا۔اللہ تعالیٰ خوب مصلحت سمجھتا ہے کہ اس میں کیا سِرّ تھا۔ابو جہل نے تلاش کی کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جاوے جو رسول اللہؐ کو قتل کر دے۔اس وقت حضرت عمرؓ بڑے بہادر اور دلیر مشہور تھے اور شوکت رکھتے تھے۔انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا بیڑا اٹھایا اور معاہدہ پر حضرت عمرؓ اور ابو جہل کے دستخط ہو گئے اور قرار پایا کہ اگر عمر قتل کر آویں تو اس قدر روپیہ دیا جاوے۔۱ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ جو ایک وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوشہید کرنے کے لئے جاتے ہیں۔دوسرے وقت وہی عمر رضی اللہ عنہ اسلام میں ہو کر خود شہید ہوتے ہیں۔وہ کیا عجیب زمانہ تھا!!! غرض اس وقت یہ معاہدہ ہوا کہ میں قتل کرتا ہوں۔اس تحریر کے بعد آپؐکی تلاش اور تجسس میں لگے راتوں کو پھرتے تھے کہ کہیں تنہا مل جائیں تو قتل کر دوں۔لوگوں سے دریافت کیا کہ آپ تنہا کہاں ہوتے ہیں۔لوگوں نے کہا کہ نصف رات گزرنے کے بعد خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھا کرتے ہیں۔حضرت عمرؓ یہ سن کر بہت ہی خوش ہوئے چنانچہ خانہ کعبہ میں آکر چھپ رہے۔جب تھوڑی دیر گزری تو جنگل سے لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ کی آواز آتی ہوئی معلوم ہوئی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی آواز تھی۔اس آواز کو سن کر اور یہ معلوم کر کے کہ وہ ادھر ہی کو آرہی ہے حضرت عمر اور بھی احتیاط کرکے چھپے اور یہ ارادہ کر لیا کہ جب سجدہ میں جائیں گے تو تلوار مار کر سر مبارک تن سے جدا کردوںگا۔آپؐنے آتے ہی نماز شروع کر دی۔پھر اس سے آگے کے واقعات خود حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ میں اس قدر رو رو کر دعا ئیں کیں کہ مجھ پر لرزہ پڑنے لگا ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۲ تا ۴