ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 63

اور فطرتاً دنیا کو اس لذّت اور محبت سے سرشار کرنا چاہتے تھے۔اِدھر دنیا کی حالت کو دیکھتے تھے تو ان کی استعدادیں اور فطرتیں عجیب طرز پر واقع ہو چکی تھیں اور بڑے مشکلات اور مصائب کا سامنا تھا۔غرض دنیا کی اس حالت پر آپ گریہ و زاری کرتے تھے اور یہاں تک کرتے تھے کہ قریب تھا کہ جان نکل جاتی۔اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ(الشعرآء:۴) یہ آپ کی متضر عانہ زندگی تھی اور اسم احمد کا ظہور تھا۔اس وقت آپ ایک عظیم الشان توجہ میں پڑے ہوئے تھے۔اس توجہ کا ظہور مدنی زندگی اور اسم محمدؐ کی تجلی کے وقت ہوا جیساکہ اس آیت سے پتہ لگتا ہے وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ (ابراہیم:۱۶)۔مامورین پر ابتلا یہ سنّت اللہ ہے کہ مامور من اللہ ستائے جاتے ہیں۔دکھ دیئے جاتے ہیں۔مشکل پر مشکل ان کے سامنے آتی ہے نہ اس لئے کہ وہ ہلاک ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ نصرتِ الٰہی کو جذب کریں۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی مکی زندگی کا زمانہ مدنی زندگی کے بالمقابل دراز ہے۔چنانچہ مکہ میں ۱۳برس گزرے اور مدینہ میں دس برس۔جیسا کہ اس آیت سے پایا جاتا ہے ہرنبی اور مامور من اللہ کے ساتھ یہی حال ہوا ہے کہ اوائل میں دکھ دیا گیا ہے۔مکّار، فریبی، دوکاندار اور کیا کیا کہا گیا ہے۔کوئی بُرا نام نہیں ہوتا جو ان کا نہیں رکھا جاتا۔وہ نبی اور مامور ہر ایک بات کی برداشت کرتے اور ہر دکھ کو سہ لیتے ہیں لیکن جب انتہا ہو جاتی ہے تو پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے دوسری قوت ظہور پکڑتی ہے۔اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا دکھ دیا گیا ہے اور ہر قسم کا بُرا نام آپ کا رکھا گیا ہے۔آخر آپ کی توجہ نے زور مارا اور وہ انتہا تک پہنچی جیسا اِسْتَفْتَحُوْا سے پایا جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ۔تمام شریروں اور شرارتوں کے منصوبے کرنے والوں کا خاتمہ ہو گیا۔یہ توجہ مخالفوں کی شرارتوں کی انتہا پر ہوتی ہے کیونکہ اگر اوّل ہی ہو تو پھر خاتمہ ہو جاتا !!مکہ کی زندگی میںحضرت اَحدیّت کے حضور گرنا اور چلّانا تھا۔اور وہ اس حالت تک پہنچ چکا تھا کہ دیکھنے والوں اور سننے والوں کے بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔مگر آخر مدنی زندگی کے جلال کو دیکھو کہ وہ جو شرارتوں میں سر گرم اور قتل اور اخراج کے منصوبوں میں