ملفوظات (جلد 2) — Page 516
نہیںکر سکتا۔بغیراس کے دلا ئل ملتے ہی نہیں اور طرز بیا ن نہیں دیا جا تا اوریہ بھی خدا کا خاص فضل ہوتا ہے کہ اس طرز بیان سے نیکی کی قوت رکھنے والے اُس شخص کو جو خدا کی قوت اور طاقت پاکر روح القدس سے بھر کر بولتا ہے شناخت کر لیتے ہیں۔پس تم پر یہ خدا تعالیٰ کابہت بڑا احسان ہے کہ اس نے تمہیں یہ قوت عطا کی اور شناخت کی آنکھ دی۔اگر وہ یہ فضل نہ کرتا تو جیسے اور لوگ پردوں میں ہیں اورگالیاں دیتے ہیں تم بھی اُن میں ہی ہوتے۔جس چیز نے تم کو کھینچا ہے وہ محض خدا کا فضل ہے جیسے میاں عبدالحق ہی کو دیکھو کہ خدا کافضل ان کی دستگیری نہ کرتا تو یہ کیونکر اس عیش کی جگہ سے نکل سکتے تھے خصوصاً ایسی حالت میںکہ ان کے پاس کئی ناصح بھی جمع ہوئے اور اُنہوں نے منع بھی کیا قادیان مت جائو۔بلکہ ایک نے گالی بھی دی حالانکہ گالی دینا ان کے مذہب میں منع ہے اور عام طور پر تہذیب اور شائستگی کے بھی خلاف ہے لیکن ان تمام باتوںپر خدا کا فضل غالب آگیا اور اُن کو کھینچ لایا۔اُن کو بدی کے اسباب ہی میسر نہ آئے ورنہ اگر یہ بیوی کر لیتے تو پھر ابتلا پیش آجاتا مگرخدا نے ہر طرح سے بچایا خدا کا فضل مستحدث نہیں ہوتا۔جس پر وہ اپنا کرم کرتا ہے اُسے ہر طرح سے بچالیتا ہے۔یہ خیال مت کرو کہ ہم مسلمان ہیں۔اسلام بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو اور شکر کرو۔اس کے اند ر فلاسفی ہے جو زبان سے کہہ دینے سے حاصل نہیں ہوتی۔اسلام کی حقیقت اسلام اللہ تعالیٰ کے تمام تصرفات کے نیچے آجانے کا نام ہے اور اس کا خلاصہ خدا کی سچی اور کامل اطاعت ہے۔مسلمان وہ ہے جو اپناسارا وجود خدا تعالیٰ کے حضور رکھ دیتا ہے بِدوں کسی امید پاداش کے مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ ( البقرۃ : ۱۱۳ ) ۱ یعنی مسلمان وہ ہے جو اپنے تمام وجود کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے کے لیے وقف کر دے اور سپرد کردے اور اعتقادی اور عملی طور پر اس کا مقصو داور غرض اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اورخوشنودی ہو اور تمام نیکیاں اور اعمالِ حسنہ جو اس سے صادر ہوں وہ بمشقت اورمشکل کی راہ سے نہ ہوں بلکہ ان میں ایک لذّت اور حلاوت کی کشش ہو جو ہر قسم کی تکلیف کو راحت سے تبدیل کردے۔