ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 515 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 515

چکاہے وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ (الصّف :۹ )۔گالیوںکا جواب گالیوں سے نہ دیں یہ مجھے گالیاں دیتے ہیں لیکن میں ان کی گالیوں کی پروا نہیں کرتااور نہ اُن پر افسوس کرتا ہوں کیونکہ وہ اس مقابلہ سے عاجز آگئے ہیں اور اپنی عاجزی اور فرو مائیگی کو بجز اس کے نہیںچھپا سکتے کہ گالیاں دیں، کفر کے فتوے لگائیں ،جھوٹے مقدمات بنائیں اور قسم قسم کے اِفترا اور بہتان لگائیں۔وہ اپنی ساری طاقتوںکو کام میں لاکرمیرامقابلہ کر لیں اور دیکھ لیںکہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتاہے۔میں ان کی گالیو ںکی اگر پروا کروں تو وہ اصل کام جو خدا تعالیٰ نے مجھے سپرد کیاہے رہ جاتاہے اس لیے جہاںمیںان کی گالیوںکی پروا نہیں کرتا میںاپنی جماعت کو نصیحت کرتاہوں کہ اُن کو مناسب ہے کہ اُن کی گالیاںسُن کر برداشت کریں اور ہر گزہر گز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں کیونکہ اس طرح پر برکت جاتی رہتی ہے۔وہ صبر اور بر دا شت کا نمو نہ ظا ہر کر یں اور اپنے اخلا ق دکھائیں۔یقیناً یاد رکھو کہ عقل اور جو ش میں خطر نا ک د شمنی ہے جب جوش اور غصہ آ تا ہے تو عقل قا ئم نہیں رہ سکتی لیکن جو صبر کرتا ہے اوربرد باری کا نمو نہ دکھا تا ہے اس کو ایک نور دیا جا تا ہے جس سے اس کی عقل وفکر کی قو تو ں میں ایک نئی رو شنی پیدا ہو جا تی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے غصہ اور جوش کی حا لت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لیے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔اسلا م کی قدر کرو میں پھر اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے کہتا ہو ں کہ اسلا م کی جو حالت اس وقت ہو رہی ہے اور یہ مختلف فرقہ بند یاں جو آئے دن ہوتی رہتی ہیں اور مخالف اس پر دلیر ہو رہے ہیں اور بےباکی سے حملے اور اعترا ض کرتے ہیں یہ سب اسی دَآبَّةُ الْاَرْضِ کا فسا د ہے۔انہوں نے ہی عیسائیوں کو مد د دی ہے مگر اب خدا کا شکر کرو کہ اس نے عین وقت پر دستگیری فرمائی ہے اوراس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔اس لیے تم کو منا سب ہے کہ اس فضل کو جو تم کو دیا گیا ہے ضائع نہ کرو اور ادب کی نگاہ سے دیکھو اور اس مد د اور نصرت کی جو تمہیں دی گئی ہے قدر کرو۔یقیناً یاد رکھو کہ خدا کی مد د بدوں اور اس کے بلائے بغیر کوئی شخص راستی سے اور پو ری قو ت سے ایک امر کو بیان