ملفوظات (جلد 2) — Page 517
حقیقی مسلمان اللہ تعالیٰ سے پیار کرتاہے یہ کہہ کر اور مان کر کہ وہ میرا محبوب ومولا پیداکرنے والا اورمحسن ہے اس لیے اُس کے آستانہ پرسر رکھ دیتاہے۔سچے مسلمان کو اگر کہا جاوے کہ ان اعمال کی پاداش میںکچھ بھی نہیں ملے گا اور نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے اور نہ آرام ہیں نہ لذّات ہیں تو وہ اپنے اعمالِ صالحہ اور محبت ِالٰہی کو ہر گزہرگز چھوڑنہیں سکتا کیونکہ اس کی عبادات اور خدا تعالیٰ سے تعلق اور اُس کی فرمانبرداری اور اطاعت میں فناکسی پاداش یااجر کی بنا اورا میدپر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے وجود کو ایسی چیز سمجھتاہے کہ وہ حقیقت میں خدا تعالیٰ ہی کی شناخت اُس کی محبت اور اطاعت کے لیے بنائی گئی ہے اور کوئی غرض اور مقصد اُس کا ہے ہی نہیں اس لیے وہ اپنی خداداد قوتوں کو جب ان اغراض اور مقاصد میںصرف کرتاہے تو اس کو اپنے محبوبِ حقیقی ہی کا چہرہ نظر آتا ہے بہشت و دوزخ پر اس کی اصلاً نظر نہیں ہوتی میں کہتاہو ں کہ اگر مجھے ا س امر کایقین دلا دیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزا دی جاوے گی تو میں قسم کھاکر کہتا ہو ں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلائو ں کو ایک لذّت اور محبت کے جو ش اور شوق کے ساتھ برداشت کرنے کوتیار ہے اور باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اوردکھ کی صورت میں دلایا جاوے کبھی خدا کی اطاعت اورفرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکلنے کو ہزار بلکہ لاانتہاموت سے بڑھ کر اور دکھوںاور مصائب کامجموعہ قراردیتی ہے۔جیسے اگر کوئی بادشاہ عام اعلان کرائے کہ اگر کوئی ماںاپنے بچے کو دودھ نہ دے گی تو بادشا ہ اس سے خوش ہوکر انعام دے گا تو ایک ماں کبھی گوارانہیں کر سکتی کہ وہ اس ا نعام کی خواہش اور لالچ میں اپنے بچے کو ہلاک کرے۔اسی طرح ایک سچا مسلمان خداکے حکم سے باہر ہونا اپنے لیے ہلاکت کا موجب سمجھتا ہے خواہ اس کو اس نافرمانی میں کتنی ہی آسائش اورآرا م کا وعدہ دیاجاوے۔پس حقیقی مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس قسم کی فطرت حاصل کی جاوے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اوراطاعت کسی جزااورسزا کے خوف اور امید کی بناپر نہ ہو بلکہ فطرت کا طبعی خاصہ اور جزو ہو کر ہو پھر وہ محبت بجائے خود اس کے لیے ایک بہشت پیداکردیتی ہے اور حقیقی بہشت یہی ہے کوئی آدمی