ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 487 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 487

آپؐنے تعلیم پائی جو معلومات وسیع ہوتے اورنہ کوئی اور ذرائع لوگوںکے حالات معلوم کرنے کے تھے جیسے تار یا اخبار یا ڈاک خانے وغیرہ۔آپؐکو تو دنیاکے بگڑجانے کی اطلاع صرف خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ملی۔جب یہ آیت اتری ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ(الرّوم:۴۲) یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور جنگل بھی بگڑ گئے۔د ر یا ؤں سے مراد وہ لو گ ہیں جن کو پا نی دیا گیا یعنی شریعت اور کتا ب اللہ ملی اور جنگل سے مرا د وہ ہیں جن کو اس سے حصّہ نہیں ملا تھا۔مطلب یہ ہے کہ اہل کتا ب بھی بگڑ گئے اورمشرک بھی۔الغر ض آپ کا زما نہ ایسا زمانہ تھا کہ دنیا تا ریکی میں پھیلی ہو ئی تھی۔دلائل صدا قت اس و قت اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا کیا تا تاریکی کو دور کریں۔ایسے پُرفتن زمانہ میں (کہ چاروں طر ف فسق و فجور کی ترقی تھی اور شر ک اور دہریت کا زور تھا کہ نہ اعتقاد ہی درست تھے اور نہ اعما لِ صا لحہ اورنہ اخلا ق ہی با قی رہے تھے )آپؐکا پیدا ہونا بجائے خود آپؐکی سچا ئی اور منجانب اللہ ہو نے کا ایک زبر دست ثبو ت ہے۔کا ش کوئی اس پر غور کرے۔عقل مند اور سلیم الفطر ت انسا ن ایسے وقت پر آنے والے مصلح کی تکذیب کے لیے کبھی جلدی نہیںکر سکتا اور کم از کم اس کو اتنا تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یہ وقت پر آیا ہے۔وباء طاعو ن اور ہیضہ کی شد ت کے وقت اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں ان کے علا ج کے لیے آیا ہوں تو کیا اس قدر تسلیم کر نا نہیں پڑے گا کہ یہ شخص ضرو رت کے وقت پر آیا ہے؟ بے شک ماننا پڑے گا۔اسی طرح پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کے لیے پہلی دلیل یہی ہے کہ آپؐجس وقت تشریف لائے وہ وقت چاہتا تھا کہ مُردے ازغیب بیرون آیدوکارے بکند۔اسی کی طر ف قرآنِ کر یم نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ ( بنی اسـرآءیل:۱۰۶) پس یاد رکھو کہ مامور من اللہ کی شناخت کی پہلی دلیل یہی ہوتی ہے کہ اس وقت اور موقع پر نگاہ کی جاوے کہ کیا اس وقت کسی مرد آسمانی کے آنے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟ ایک شخص اگرنہروں کی موجودگی اور متعدد کنوؤں کے ہوتے ہوئے پھر ان میں ہی کنوا ں لگاتا