ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 488 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 488

ہے تو صاف کہنا پڑے گا کہ یہ وقت اور روپیہ کا خون کرتا ہے لیکن اگر وہ کسی ایسے جنگل میں جہاں کوئی کنواں نہیں ہے کنواں لگاتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ اس نے خیر جاری کے لئے یہ کام کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے جسمانی جنگل میں پیدا ہوئے ویسے ہی روحانی جنگل بھی تھا۔مکہ میں اگر جسمانی ا ور روحانی نہریں نہ تھیں تو دوسرے ملک روحانی نہر نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہو چکے تھے اور زمین مَر چکی تھی جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا(الـحدید:۱۸) یعنی یہ بات تمہیںمعلوم ہے کہ زمین سب کی سب مَر گئی تھی اب خدا تعالیٰ نئے سرے سے اس کو زندہ کرتا ہے۔پس یہ زبر دست دلیل ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی کہ آپ ایسے وقت میں آئے کہ ساری دنیا عام طور پر بدکاریوں اور بداعتقادیوں میں مبتلا ہو چکی تھی اور حق و حقیقت اور توحید اور پاکیزگی سے خالی ہو گئی تھی۔پھر دوسری دلیل آپؐکی سچائی کی یہ ہے کہ آپؐایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ کی طرف اُٹھا ئے گئے جب وہ اپنے فرضِ رسالت پورے طور پر ادا کرکے کامیاب اور با مراد ہو چکے۔حقیقت میں جیسے مامور من اﷲ کے لیے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ آیا وہ وقت پر آیا ہے یا نہیں؟ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کامیاب ہوا یا نہیں؟ اُس نے اُن بیماروں کو جن کے علاج کے لیے وہ آیا، اچھّا بھی کیا یا نہیں؟۱ عربوں کی اخلاقی اور روحانی حالت زیادہ تفصیل کی اس مقام پر ضرورت نہیں کیونکہ اس مجمع میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو بخوبی علم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب کا کیا حال تھا۔کوئی بدی ایسی نہ تھی جو ان میں نہ پائی جاتی ہو جیسے کوئی ہر صیغہ اور امتحان کو پاس کر کے کامل اُستاد ہر فن کا ہو جاتاہے۔اسی طرح پر وہ بدیوں اور بدکاریوں میں ماہر اور پُورے تھے۔شرابی،زانی،یتیموں کا مال کھانے والے، قمار باز۔غرض ہر برائی میں سب سے بڑھے ہوئے تھے بلکہ اپنی بدکاریوں پر فخر کرنے والے تھے۔اُن کا قول تھا اِنْ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا (الـمؤمنون: ۳۶) ہماری زندگی اسی قدر ہے