ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 486 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 486

پادری فنڈر صاحب نے اپنی کتاب ’’میزان الحق ‘‘میں یہ سوال کیاہے کہ کیاسبب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کادعویٰ کیا اور خدا تعالیٰ نے ان کو نہ روکا ؟اس سوال کاپھر آپ جواب دیتاہے کہ اُس وقت چونکہ عیسائی بگڑگئے تھے اُن کے اخلاق اور اعمال بہت خراب تھے۔انہوں نے سچی راست بازی کاطریق چھوڑدیاتھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُن کی تنبیہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجااور اس لیے آپؐکو نہ روکا۔اس سے یہ نادان عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا تو اعتراف نہیں کرتا بلکہ معترض کی صورت میں اس کو پیش کرتاہے۔میں کہتا ہوں کہ کیا اس وقت کے حسبِ حال کسی مصلح کی ضرورت تھی یا یہ کہ ایک کا جو ایک ہاتھ کاٹا ہوا ہے تو دوسرا بھی کاٹا جاوے جو بیمار ہے پتھر مار کر ماردیاجاوے۔کیا یہ خدا تعالیٰ کے رحم کے مناسب حال ہے؟ اصل بات یہ کہ اس وقت جیساکہ عیسائی تسلیم کرتے ہیں وہ تاریکی کا زمانہ تھا اور دیانند نے اپنی کتاب میں تسلیم کیاہے اورتاریخ بھی شہادت دیتی ہے کہ ہندوستا ن میں بُت پر ستی ہو رہی تھی۔نہ صرف ہندو ستا ن میں بلکہ کل معمورہ ٔ عا لم میں ایک خطر نا ک تا ریکی چھا ئی ہوئی تھی جس کا اعترا ف ہرقوم اور ملّت کے مؤرخو ں اور محققوںنے کیا ہے۔اب ایسی حا لت میں نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجو د باجو د بے ضرو رت نہ تھابلکہ وہ کل دنیا کے لیے ایک رحمت کا نشا ن تھا۔چنا نچہ فر ما یاہے وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیآء:۱۰۸ ) یعنی اے نبی کر یمؐ ہم نے تمہیں تما م عا لم پررحمت کے لیے بھیجاہے۔آپ کو تو کچھ معلو م نہ تھا کہ اس و قت آریہ ور ت کی کیا حا لت ہے اور کس خطر نا ک بت پرستی کے تاریک غار میں گرا ہوا ہے۔یہاں تک کہ انسا ن کی شر م گاہ تک کی پرستش بھی ان و ید کے ماننے والوں میںمروّج تھی اور نہ آ پ کو معلو م تھا کہ بلاد ِشا م کے عیسا ئیو ں کا کیا حا ل ہے وہ کس قسم کی انسان پرستی میں مصروف ہوکر اخلاق اور اعمال صالحہ کی قیود سے نکل کر بالکل تاریک زندگی بسر کر رہے تھے اور نہ آپ کواس بات کاعلم تھا کہ ایران اور مصر میںکیا ہورہا ہے؟ غرض آپؐتو ایک جنگل میں پیداہوئے تھے۔نہ اس وقت کوئی تاریخ مدون ہوئی تھی جو آپؐنے پڑھی ہوتی۔نہ کسی مدرسہ اور مکتب میں