ملفوظات (جلد 2) — Page 485
امریکہ میںایک شخص کومارکر دیکھاکہ آیامَرنے کے بعد شعور باقی رہتاہے یانہیں۔اس شخص کو جس پر یہ تجربہ کرناچاہا کہہ دیاگیاکہ تم آنکھ کے اشارے سے بتا دینا مگر جب وہ ہلاک کیا گیا تو کچھ بھی نہ کر سکا کیونکہ یہ ایک سرِّ الٰہی ہے جس کی تہہ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔انسان جب حد سے گزر تا ہے تو سرّ کی تلاش کی فکر میں ہوتا ہے مغربی دنیا میں جو زمینی تحقیقات میں لگی ہوئی ہے وہ ہر فلسفہ میں ادب سے دورنکل جاتی ہے اور انسانی حدود کو چھوڑ کر آگے قدم رکھنا چاہتی ہے مگر بے فائدہ۔مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان امور کو جو ایمانیات سے متعلق ہیں نہ تو اس قدر چھپایا ہے کہ تکلّف کی حد تک پہنچ جائیں اور نہ اس قدر ظاہر کیا ہے کہ ایمان ایمان ہی نہ رہے اور کوئی فائدہ اس پر مترتّب نہ ہو سکے۔اسلام ایک زندہ مذہب باوجود ان ساری باتوں کے آج اسلام کے لئے خوشی کا دن ہے کہ معمورۂ عالم میں کوئی اس دن کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ اپنی روشن ہدایتوں اور عملی سچائیوں کے ساتھ زندہ نشانات اور زندہ برکات کا ایک زبر دست معجزہ اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کے مقابلہ کی کسی میں طاقت نہیں۔یہ بات کہ اسلام اپنی پاک تعلیم اور اس کے زندہ نتائج کے ساتھ اس وقت معمورۂ عالم میں ممتاز ہے نرا دعویٰ ہی دعویٰ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندے کے ذریعہ اس سچائی کو ثابت کر دیا ہے اور کُل مذاہب و مِلل کو دعوت حق کر کے اس نے بتادیاہے کہ فی الحقیقت اسلام ہی ایک زندہ مذہب ہے اور جسے ابھی تک شک ہو وہ میرے پاس آئے اور ان خوبیوںاور برکات کوخود مشاہدہ کرے مگر طالبِ صادق بن کر آئے نہ جلد باز معترض ہوکر۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں دنیا میں ظاہر ہوئے اور خدا تعالیٰ کا جلال اور گم گشتہ توحید کو زندہ کرنے کے لیے آپ مبعوث ہوئے۔اس زمانہ ہی کی حالت پر اگر کوئی سعادت مند سلیم الفطرت غور کن دل لے کر فکر کرے تو اس کو معلوم ہوگا کہ اس زمانہ کی حالت ہی آپؐکی سچائی پر ایک روشن دلیل ہے اور دانش مند اس وقت ہی کو دیکھ کر اقرار کرے اور معجزہ بھی طلب نہ کرے۔