ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 484

یہ پسند فرمایا ہے کہ کچھ خفابھی ہو۔دانش مند آدمی سعادت پاتاہے۔بیوقوف اس سے محروم رہ جاتاہے اور پھر کوئی ایمانی امرایسا نہیں ہے جس میں حقیقتِ فلسفہ نہ ہو۔اس خفامیںعظیم الشان فلسفہ ہے جیساکہ میں نے ابھی کہا ہے کہ اگر ایسا انکشاف ہو تاکہ کوئی چیز مخفی نہ رہ جاتی۔معادکا حال اور خدا کی رضاکاپتہ معلوم ہو جاتا ہے تونیکی نیکی نہ رہتی اور نہ اس کی کوئی قدرہوتی۔مشہود محسوس چیزوںپر ایمان لانے سے کوئی ثواب نہیں مل سکتا۔مسجد پر یا درخت یا آفتاب پر ایمان لانے والا اور ان کے وجود کا اعتراف کرنے والاکسی جزاکا مستحق نہیں ہے لیکن جو مخفی کو معلوم کر کے ایمان لاتاہے وہ بے شک قابل تعریف فعل کا کرنے والا ٹھہرتا ہے اور مدح اور تعریف کامستحق ٹھہرتاہے۔جب بالکل انکشاف ہو گیا پھر کیا؟ اسی طرح پر اگر کوئی ۲۹دن کے ہلال کو دیکھتاہے توبے شک اس کی نظر قابل تعریف ہو گی لیکن اگر کوئی چودہ دن کے بعد جبکہ بدر ہوگیا ہے اور عالم تاب روشنی نظر آتی ہے لوگوں کو کہے کہ آئومیں تمہیں چاند دکھائوں میںنے دیکھ لیاہے تووہ مسخرہ اور فضول گو ٹھہرایاجاوے گا۔غرض قابلیت فراست سے ظاہر ہوتی ہے۔خدا نے کچھ چھپایاہے اور کچھ ظاہر کیاہے۔اگر بالکل ظاہر کرتا تو ایمان کاثواب جاتارہتا اور اگر بالکل چھپاتاتوسارے مذ اہب تاریکی میںدبے رہتے اور کوئی بات قابل اطمینان نہ ہوسکتی اور آج کوئی مذہب والادوسرے کو نہ کہہ سکتا کہ تو غلطی پر ہے اور نہ مؤاخذہ کااصول قائم رہ سکتا تھا کیونکہ یہ تکلیف مالایطاق تھی مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ( البقرۃ :۲۸۷ ) پس خدا کافضل ہے کہ ہلکا سا امتحان رکھاہو اہے جس میں بہت مشکلات نہیں باوجود یکہ وہ عالم ایسا اَدَق ہے کہ جو جاتا ہے پھر واپس نہیں آتا۔پھر بھی خدا تعالیٰ نے انواروبرکات کاایک سلسلہ رکھا ہے جس سے اس دنیاہی میں پتہ لگ جاتاہے اور وہ مخفی اُمور متحقق ہوجاتے ہیں۔سرِّ الٰہی آج کل کے فلاسفروںنے مُردوںکے واپس آنے کی بہت تحقیقات کی ہے۔۱