ملفوظات (جلد 2) — Page 43
افسوس اور تعجب ان پر ہے جو کہتے ہیں خد ا نہیں مل سکتا۔کس نے مجاہدہ اور سعی کی اور پھر خدا کو نہیں پایا؟خدا تو ملتا ہے اور بہت جلد ملتا ہے لیکن اس کے پانے والے کہاں؟؟؟ اگر کوئی یہ شبہ پیش کرے کہ خدا نہیں ہے تو یہ بڑی بے ہودہ بات ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی نادانی اور بے وقوفی نہیں ہے جو خدا کا انکار کیا جاوے۔دنیا میں دو گواہوں کے کہنے سے عدالت ڈگری دے دیتی ہے۔چند گواہوں کے بیان پر جان جیسی عزیز چیز کے خلاف عدالت فتویٰ دے دیتی ہے اور پھانسی پر لٹکا دیتی ہے۔حالانکہ شہادتوں میں جعل اور سازش کا اندیشہ ہی نہیں یقین ہوتا ہے۔لیکن خدا کے متعلق ہزاروں لاکھوں انسانوں نے جو اپنی قوم میں اور ملک میں مسلّم راستباز، نیک چلن تھے شہادت دی ہو، اس کو کافی نہ سمجھا جاوے۔اس سے بڑھ کر حماقت اور ہٹ دھرمی کیا ہو گی کہ لاکھوں مقدسوں کی شہادت موجود ہے اور پھر انہوںنے اپنی عملی حالت سے بتا دیا ہے اور خونِ دل سے یہ شہادت لکھ دی ہے کہ خدا ہے اور ضرور ہے۔اس پر بھی اگر کوئی انکار کرتا ہے تو وہ بے وقوف ہے اور پھر عجیب تو یہ بات ہے کہ کسی معاملہ میں رائے دینے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا علم ہو۔جس شخص کو علم ہی نہیں وہ رائے دینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔رائے زنی کرے تو کیا وہ احمق اور بے وقوف نہ کہلائے گا۔ضرور کہلائے گا بلکہ دوسرے دانش مند اس کو شرمندہ کریں گے کہ احمق جبکہ تجھے کچھ واقفیت ہی نہیں تو پھر تو رائے کس طرح دیتا ہے۔اس طرح پر جو خدا کی نسبت کہتے ہیں کہ نہیں ہے۔ان کا کیا حق ہے کہ وہ رائے دیں جبکہ الٰہیات کا علم ہی ان کو نہیں ہے اور انہوں نے کبھی مجاہدہ ہی نہیں کیا ہے۔ہاں ان کو یہ کہنے کا حق ہو سکتا تھا اگر وہ ایک خدا پرست کے کہنے کے موافق تلاش حق میں قدم اٹھاتے اور خدا کو ڈھونڈتے۔پھر اگر ان کو خدا نہ ملتا تو بے شک کہہ دیتے کہ خدا نہیں ہے لیکن جب کہ انہوںنے کوئی کوشش اور مجاہدہ نہیں کیا ہے تو ان کو انکار کرنے کا حق نہیں ہے۔غرض خدا کا وجود ہے اور وہ ایک ایسی شے ہے کہ جس قدر اس پر ایمان بڑھتا جاوے،اسی قدر قوت ملتی جاتی ہے اور وہ نہاںدر نہاں ہستی نظر آنے لگتی ہے۔یہاں تک کہ کھلے کھلے طور پر اس کو دیکھ لیتا ہے اور پھر یہ قوت دن بدن زیادہ ہوتی جاتی ہے۔یہی ایک بات ہے جس کی تلاش دنیا کو ہونا چاہیے مگر آج دنیا