ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 42

پہنچتے ہیں۔بڑے بڑے علوم کی بنا اوّلاً فرض پر ہی ہوتی ہے۔پس اگر ایمان کو بھی فرض کر کے ہی اختیار کر لیتے تب بھی یقین ہے کہ وہ خالی ہاتھ نہ رہتے مگر یہاں تو اب یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ سرے ہی سے اس کو اِک بے معنی شے سمجھتے ہیں۔صحابہؓکا ایمان میں پھر صحابہؓ کی حالت کو نظیر کے طور پر پیش کر کے کہتا ہوں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اپنی عملی حالت میں دکھایا کہ وہ خدا جو غیب الغیب ہستی ہے اور جو باطل پرست مخلوق کی نظروں سے پوشیدہ اور نہاں ہے انہوں نے اپنی آنکھ سے ہاں آنکھ سے دیکھ لیا ہے ورنہ بتاؤ تو سہی کہ وہ کیا بات تھی جس نے ان کو ذرا بھی پروا ہونے نہیں دی کہ قوم چھوڑی، ملک چھوڑا،جائیدادیں چھوڑیں، احباب و رشتہ داروں سے قطع تعلق کیا۔وہ صرف خدا ہی پر بھروسہ تھا اور ایک خدا پر بھروسہ کر کے انہوں نے وہ کر کے دکھایا کہ اگر تاریخ کی ورق گردانی کریں تو انسان حیرت اور تعجب سے بھر جاتا ہے۔ایمان تھا اور صرف ایمان تھا اور کچھ نہ تھا ورنہ بالمقابل دنیا داروں کے منصوبے اور تدبیریں اور پوری کوششیں اور سر گر میاں تھیں پر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ان کی تعداد، جماعت ،دولت سب کچھ زیادہ تھا مگر ایمان نہ تھا اور صرف ایمان ہی کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے اور کامیابی کی صورت نہ دیکھ سکے مگر صحابہ نے ایمانی قوت سے سب کو جیت لیا۔انہوں نے جب ایک شخص کی آواز سنی جس نے باوصفیکہ اُمّی ہونے کی حالت میں پرورش پائی تھی مگر اپنے صدق اور امانت اور راستبازی میں شہرت یافتہ تھا۔جب اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں۔یہ سنتے ہی ساتھ ہو گئے اور پھر دیوانوں کی طرح اس کے پیچھے چلے۔میں پھر کہتا ہوں کہ وہ صرف ایک ہی بات تھی جس نے ان کی یہ حالت بنا دی اور وہ ایمان تھا۔یاد رکھو!خدا پر ایمان بڑی چیز ہے۔خدا تعالیٰ کی ہستی انگریزی اور مغربی قومیں دنیا کی تلاش اور خواہش میں لگی ہوئی ہیں۔ابتدا میں ایک موہوم اور خیالی امید پر کام شروع کرتے ہیں۔سینکڑوں جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ہزاروں لاکھوں روپے بر باد ہوتے ہیں۔آخر ایک بات پا ہی لیتے ہیں۔پھر کس قدر