ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 44

میں یہ قوتیں نہیں رہی ہیں۔اسلام کی ترقی یورپ کی اتباع میں نہیں اسلام جو یہ ایمانی قوت لے کر آیا تھا بہت ضعیف ہو گیا ہے اور عام طور پر مسلمانوں نے محسوس کر لیا ہے کہ وہ کمزور ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ آئے دن جلسے اور مجلسیں ہوتی رہتی ہیں اور نت نئی انجمنیں بنتی جاتی ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اسلام کی حمایت اور امداد کے لئے کام کرتی ہیں۔مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ان مجلسوں میں قوم قوم تو پکارتے ہیں۔قومی ترقی، قومی ترقی کے گیت گاتے ہیں لیکن کوئی مجھ کو یہ بتائے کہ کیا پہلے زمانہ میں جب قوم بنی تھی وہ یورپ کے اتباع سے بنی تھی؟کیا مغربی قوموں کے نقش قدم پر چل کر انہوں نے ساری ترقیاں کی تھیں۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ہاں اسی طرح ترقی کی تھی تو بے شک گناہ ہو گا اگر ہم اہل یورپ کے نقش قدم پر نہ چلیں۔لیکن اگر ثابت نہ ہو اور ہر گزثابت نہ ہو گا۔پھر کس قدر ظلم ہے کہ اسلام کے اصولوں کو چھوڑ کر قرآن کو چھوڑ کر جس نے ایک وحشی دنیا کو انسان اور انسان سے باخدا انسان بنایا ایک دنیا پرست قوم کی پیروی کی جائے۔جو لوگ اسلام کی بہتری اور زندگی مغربی دنیا کو قبلہ بنا کر چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔صحابہؓ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔دیکھو! انہوں نے جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا۔تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے پورے ہو گئے۔ابتدا میں مخالف ہنسی کرتے تھے کہ باہر آزادی سے نکل نہیں سکتے اور بادشاہی کے دعوے کرتے ہیں۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گم ہو کر انہوں نے وہ پایا جو صدیوں سے ان کے حصہ میں نہ آیا تھا۔وہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے۔اور ان کی ہی اطاعت اور پیروی میں دن رات کوشاں تھے۔ان لوگوں کی پیروی کسی رسم و رواج تک میں بھی نہ کرتے تھے جن کو کفار کہتے تھے۔جب تک اسلام اس حالت میں رہا