ملفوظات (جلد 2) — Page 385
کربیٹھے تھے۔پس ان کی اصلاح کے لئے تو پہلا مرحلہ یہی چاہیے تھا کہ ان کو عدل کی تعلیم سکھائی جاتی اس لئے یہ تعلیم ان کو دی گئی کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔اس تعلیم پر وہ اس قدر پختہ ہو گئے کہ پھر انہوں نے انتقام لینا ہی شریعت کی جان سمجھ لیا او ر یہ مذہب ہو گیا کہ اگر بدلہ نہ لیں گے تو گنہ گار ٹھہریں گے۔اس واسطے جب حضرت مسیح علیہ السلام آئے اور انہوں نے دیکھا کہ بنی اسرائیل کی حالت ایسی ہو گئی ہے تو انہوں نے حد درجہ کے عفو کی تعلیم دی کیونکہ جس قدر زور کے ساتھ وہ انتقام پر قائم ہو چکے تھے اگر اس سے بڑھ کر عفو کی تعلیم نہ دی جاتی تو وہ مؤثر ثابت نہ ہوتی۔اس لئے ان کی تعلیم کا سارا مدار اسی پر رہا۔پس ان اسباب اور وجوہ کے لحاظ سے یہ دونوں تعلیمیں اگرچہ اپنی جگہ حکمت ہیں لیکن ان کو قانون مختص المقام یا قانون مختص الوقت کی طرح سمجھنا چاہیے۔نہ ابدی اور دائمی قانون۔قرآن شریف مستقل اور ابدی شریعت خدا تعالیٰ کی حکمتیں اور احکام دو قسم کے ہوتے ہیں بعض مستقل اور دائمی ہوتے ہیں بعض آنی اور وقتی ضرورتوں کے لحاظ سے صادر ہوتے ہیں اگرچہ اپنی جگہ ان میں بھی ایک استقلال ہوتاہے مگر وہ آنی ہی ہوتے ہیں مثلاً سفر کے لئے نماز یا روزہ کے متعلق اَور احکام ہوتے ہیں اور حالت قیام میں اَور۔باہر جب عورت نکلتی ہے تو وہ برقع لے کر نکلتی (ہے) گھر میں ایسی ضرورت نہیں ہوتی کہ برقع لے کر پھرتی رہے۔اسی طرح پر توریت اور انجیل کے احکام آنی اور وقتی ضرورتوں کے موافق تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت اور کتاب لے کر آئے تھے وہ کتاب مستقل اور ابدی شریعت ہے اس لئے اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ کامل اور مکمل ہے قرآن شریف قانون مستقل ہے اور توریت ، انجیل اگر قرآن شریف نہ بھی آتا تب بھی منسوخ ہو جاتیں کیونکہ وہ مستقل اور ابدی قانون نہ تھے۔میں نے بعض احمقوں کو اعتراض کرتے سنا ہے کہ ایسا کیوںکیا گیا۔خدا تعالیٰ نے پہلی کتابوں کو کیوں منسوخ کیا ، کیا اس کو علم نہ تھا پہلے ہی مکمل اور مستقل ابدی شریعت بھیجنی تھی؟ یہ اعتراض بالکل