ملفوظات (جلد 2) — Page 386
نادانی کا اعتراض ہے کیونکہ یہ کلیہ قاعدہ نہیں ہے کہ ہر نسخ کے لئے ضروری ہے کہ علم نہ ہو اگریہ صحیح ہے کہ ہر نسخ میں عدم علم ثابت ہوتا ہے تو پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ جو کپڑے برس یا دو برس کے بچے کو پہنائے جاتے ہیں کیوں وہی کپڑے پانچ ، دس برس یا پچیس برس کے ایک جوان کو نہیںپہنائے جاتے؟ کیا ہو سکتا ہے کہ وہی گز آدھ گز کا کرتہ ایک نوجوان کو پہنایا جاوے ؟ یقیناً کوئی سلیم الطبع انسان اس بات کو پسند نہیں کرے گا بلکہ وہ ایسی حرکت پر ہنسی اڑائے گا۔اب اس مثال سے کیسی صفائی کے ساتھ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ ہر نسخ کے لئے عدم علم ثابت ہو۔جب ہم بجائے خود معرض تغیر میں ہیں تو ہماری ضرورتیں اس تغیر کے ساتھ ساتھ بدلتی جاتی ہیں پھر ان تبدیلیوں کے موافق جو نسخ ہو تا ہے وہ ایک علم اور حکمت کی بنا پر ہوا یا عدم علم پر۔یہ اعتراض سراسر جہالت اور حمق کا نشان ہے جیسے پیدا ہونے والے بچے کے منہ (میں) روٹی کا ٹکڑا یا گوشت کی بوٹی نہیں دے سکتے اسی طرح پر ابتدائی حالت میں شریعت کے وہ اسرار نہیں مل سکتے جو اس کے کمال پر ظاہر ہوتے ہیں۔طبیب ایک وقت خود مسہل دیتا ہے اور دوسرے وقت جب کہ اسہال کا مرض ہو اس کو قابض دوا دیتا ہے۔ہرحالت میں ایک ہی نسخہ وہ کیسے رکھ سکتا ہے۔غرض قرآن شریف حکمت ہے اور مستقل شریعت ہے اور ساری تعلیموں کا مخزن ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کا پہلا معجزہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے اور پھر دوسر امعجزہ قرآن شریف کا اس کی عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں چنانچہ سورۂ فاتحہ اور سورۂ تحریم اور سورۂ نور میں کتنی بڑی عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی ساری پیشگوئیوں سے بھری ہوئی ہے ان پر اگر ایک دانش مند آدمی خدا سے خوف کھا کر غور کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ کس قدر غیب کی خبریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ہیں کیا اس و قت جبکہ ساری قوم آپ کی مخالف تھی اور کوئی ہمدرد اور رفیق نہ تھا یہ کہنا کہ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ( القمر :۴۶) چھوٹی بات ہو سکتی تھی۔اسباب کے لحاظ سے تو ایسا فتویٰ دیا جاتا تھا کہ ان کا خاتمہ ہو جاوے گا مگر آپ ایسی حالت میں اپنی کامیابی اور دشمنوں کی ذلت اور نامرادی کی پیشگوئیاں کر رہے (ہیں) اور آخر اسی طرح وقوع میں آتا ہے پھر تیرہ سو سال کے بعد قائم ہونے والے