ملفوظات (جلد 2) — Page 384
ٹوٹ جاویں تو اس وقت مقتضائے وقت کیا ہو گا۔کیا یہ کہ اس کو سزادیں یا معاف کر دیںایسی حالت میں ایسے شریف خدمت گار کو معاف کر دینا ہی اس کے واسطے کافی سزا ہو گی۔لیکن اگر ایک شریر خدمت گار جو ہر روز کوئی نہ کوئی نقصان کرتا ہے اس کو معاف کردینا اور بھی دلیر کر دینا ہے اس لئے اس کو سزا دینی ضروری ہوگی مگر انجیل یہ نہیں بتاتی۔انجیل پر عمل کر کے تو گورنمنٹ کو چاہیے کہ اگر کوئی ہندوستان مانگے تو وہ انگلستان بھی اس کے حوالے کرے۔کیا عملی طور پر انجیل مانی جاتی ہے؟ ہرگز نہیں گورنمنٹ کے سیاست مدن کے اصولوں پر مختلف محکموں کا قائم کرنا اور عدالتوں کا کھولنا دشمن سے حفاظت کے لئے فوجوں کا رکھنا وغیرہ وغیرہ جس قدر امور ہیں انجیل کی تعلیم کے موافق نہیں ہیں اس لئے کہ انجیل کی تعلیم کے موافق کوئی انتظام ہو سکتا ہی نہیں ہے۔غرض قرآن شریف کی تعلیم جس پہلو اور جس باب میں دیکھو اپنے اندر حکیمانہ پہلو رکھتی ہے افراط یا تفریط اس میں نہیں ہے بلکہ وہ نقطۂ وسط پر قائم ہوئی ہے اور اسی لئے اس امت کا نام بھی اُمَّةً وَّسَطًا ( البقرۃ : ۱۴۴) رکھا گیا ہے۔یہ بات کہ انجیل یا توریت کی تعلیم کیوں اعتدال اور وسط پر واقع نہیں ہوئی اس سے خدا تعالیٰ پر کوئی اعتراض نہیں آتا اور نہ اس تعلیم کو ہم خلاف آئین حکمت کہہ سکتے ہیں کیونکہ حکمت کے معنی ہیں کہ وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ مَـحَلِّہٖ اس وقت کی حکمت کا تقاضا ایسی ہی تعلیم تھی۔جیساکہ ہم نے بتایا ہے کہ سزا کے وقت سزا دینا بھی حکمت ہے اور عفو کے وقت عفو ہی حکمت ہے اسی طرح پر اس وقت طبائع کی حالت کچھ ایسی ہی واقع ہوئی تھی کہ تعلیم کو ایک پہلو پر رکھنا پڑا۔بنی اسرائیل ۴۰۰ برس تک فرعون کی غلامی میں رہے تھے اور اس وجہ سے ان لوگوں کے عادات اور رسوم کا ان پر بہت بڑا اثر پڑا ہوا تھا اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ بادشاہ کے اطوار و عادات اور آئین ملک داری کا اثر رعایا پر پڑتا ہے بلکہ ان کے مذہب تک پر اثر جا پڑتا ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِہِمْ۔چنانچہ سکھوں کے زمانہ میں عام لوگوں پر بھی یہ اثر پڑا تھا کہ عموماً لوگ ڈاکہ زن اور دھاڑوی ہو گئے تھے۔ہری سنگھ و غیرہ براتیں ہی لوٹ لیا کرتے تھے۔اسی طرح پرفرعونیوں کی غلامی میں رہ کر بنی اسرائیل عدل کو کچھ سمجھتے ہی نہیں تھے ان پر جو ہمیشہ ظلم ہوتا تھا وہ بھی اعتدا اور ظلم