ملفوظات (جلد 2) — Page 373
انسان میں مفقود ہے تو پھر سب سے محروم ہونا پڑتا ہے۔انسان دنیا میں اس لئے نہیں آیا کہ وہ باطل کا ذخیرہ جمع کرے بلکہ اسے حقیقت شناس اور حق پرست ہونا چاہیے۔دنیا میں چونکہ باطل بھی ہے اور کچھ تعجب نہیں کہ باطل پرست اسے سچ سے بھی زیادہ چمکدار دکھانا چاہیں مگر دانش مند کو دھوکا نہیں کھانا چاہیے اس کو لازم ہے کہ سچائی کو پورے طور پر پرکھے اور پھر قبول کرے۔میرے نزدیک عام مذاہب کا اس وقت یہ حال ہے کہ گویا کل مذاہب کا ایک میدان لگا ہوا ہے اور ہر ایک بجائے خود کوشش کرتا ہے کہ اپنے مذہب کو سچا دکھائے مگر میں کہتا ہوں کہ روحانیت کو دیکھو کہ کس میں ہے اور تائیدی نشان کون اپنے ساتھ رکھتا ہے اور کون سا مذہب ہے جو گناہ کے کیڑے کو ہلاک کرنے کی قوت رکھتا ہے۔میں آپ کو اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی سچی معرفت جس کی گرمی سے گناہ کا کیڑا ہلاک ہوتاہے اسلام میں ملتی ہے اور یہ کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ کسی کے خون سے اس کیڑے کو موت آوے بلکہ خون پڑ کر تو اور بھی کیڑے پیدا کرے گا اس لئے خون گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہرگز نہیں ہے۔نجات اور پاکیزگی کی سچی اصل وہی ہے جو میں نے آپ کو بتائی ہے اور ساری دنیا کو چاہیے کہ اسی کو تلاش کریں۔اس تقریر کے ختم کرتے کرتے نہر کا پل جو قادیان سے ۴ ؍ میل کے قریب ہے آپہنچا۔یہاں پہنچ کر مسٹر ڈکسن حضرت سے رخصت ہو کر بٹالہ کو چلا گیا اور حضرت اقدس واپس تشریف فرما ہوئے۔(ایڈیٹر)۱ سَیر سے واپسی پرحضرت اقدس ؑ نے نواب صاحب کو خطاب کرکے فرمایا۔اعزّہ کو تبلیغ مَیں سنتا رہتا ہوں کہ آپ اپنے اعزّہ کو وقتاً فوقتاً تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔یہ بہت ہی عمدہ بات ہے۔ہر وقت انسان کو ایسی فکر کرنی چاہیے کہ جس طرح ممکن ہو عورتوں اور اور مردوں کو اس امر الٰہی سے اطلاع کردیوے۔حدیث میں آیا ہے کہ اپنے قبیلہ کا شیخ اسی طرح سوال کیا جائے گا جیسے کسی قوم کا نبی۔غرض جو موقع مل سکے اسے کھونا نہیں چاہیے۔زندگی کا کچھ اعتبار نہیں ہوتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ(الشعرآء:۲۱۵) کا حکم ہوا