ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 372

اور ان کی تکمیل اور نشوونما کے لئے ایک خطرناک روک پیدا کردیتا ہے جب کہ وہ انسان کو خدا بنا کر اس کے خون پر نجات کاانحصار رکھ دیتا ہے۔پس میں جو بات آپ کو پہنچانا چاہتا تھا وہ یہی ہے کہ میں انسان کو گناہ سے بچنے کا حقیقی ذریعہ بتاتا ہوں اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان پیدا کرنے کی راہ دکھاتا ہوں یہی میرا مقصد ہے جس کو لے کر میں دنیا میں آیا ہوں۔میری دلی خواہش ہے کہ آپ اس کو سمجھ لیں اور خوب غور سے سمجھ لیں تا کہ جہاں کہیں آپ جائیں اوراپنے دوستوں میں بیٹھ کر اپنے سفر کے عجائبات سنائیں وہاں ان کو یہ باتیں بھی بتائیں جو میں نے آپ کو سنائی ہیں۔مسٹر ڈکسن۔میں نے آپ کا مدعا خوب سمجھ لیا ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں کہیں میں جائوں گا میں یوروپین لوگوں میں اس کا تذکرہ کروں گا۔حضرت اقدسؑ۔ہم نے تو آپ کا چہرہ دیکھ کر ہی سمجھ لیا تھا کہ آپ میں انصاف ہے ہماری دلی آرزو یہی تھی کہ آپ کچھ دنوں ہمارے پاس رہ جاتے تا کہ ہمیں پورا موقع ملتا کہ اپنے اصول آپ کو سمجھائیں اور آپ کو بھی غور کرنے اور بار بار پوچھنے کا موقع ملتا مگر تا ہم ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کی غور کرنے والی طبیعت ضرور کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھائے گی۔انسان کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا نمونہ یہی ہے کہ و ہ راستی کے قبول کرنے کے لئے ہر وقت طیار رہے بہت سے امورا یسے ہوتے ہیں کہ انسان محض ماں باپ کی تقلید کی وجہ سے باوجودیکہ ان میں صریح نقص دیکھتا ہے نہیں چھوڑتا۔لیکن جو شخص سچے اخلاق اور اخلاقی جرأت سے حصہ رکھتا ہے وہ ان باتوں کی کچھ پروا نہیں کرتا وہ صرف راستی کا خواہش مند ہوتا ہے۔بچپن میں دو قوتیں بڑی تیز ہوتی ہیں اوّل ہر ایک چیز اندر چلی جاتی ہے دوم خوب یاد رہتی ہے۔بچہ کبھی دلائل نہیں پوچھتا کہ کیوں یہ بات ہے مگر اصل شجاعت یہی ہے کہ ان باتوں کو جو شیر مادر کی طرح پیتا ہے جب اسے معلوم ہو جاوے کہ ان میں حقیقت اور معرفت کا رنگ اور قوت نہیں ہے تو انہیں چھوڑنے کے لئے فی الفور طیار ہو جاوے۔تمام قویٰ کا بادشاہ انصاف ہے اگر یہ قوت ہی