ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 374

تو آپ نے نام بنام سب کو خدا کا پیغام پہنچادیا۔ایسا ہی مَیں نے بھی کئی مرتبہ عورتوں اور مَردوں کو مختلف موقعوں پر تبلیغ کی ہے اور اب بھی کبھی گھر میں وعظ سنایا کرتا ہوں۔مَیں نے ارادہ کیا تھا کہ عورتوں کے لئے ایک قِصّہ کے پَیرایہ میں سوال وجواب کے طور پر سارے مسائل آسان عبارت میں بیان کیے جاویں مگر مجھے اس قدر فرصت نہیں ہوسکتی۔کوئی اور صاحب اگرلکھیں توعورتوں کو فائدہ پہنچ جاوے۔فضول خرچی فرمایا۔اُمرا بہت سے فضول خرچ رکھتے ہیں جس سے آخر کوانہیں بہت نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔اگر وہ اعتدال کے ساتھ اپنی زندگی بسرکریں تو کچھ حرج نہیں ہے۔سود کی بَلا نے مسلمانوں کو بہت کمزورکردیا ہے۔یہ بَنیے سُود درسُود لے کرآخر ساری جائیدادوں پرقبضہ کرلیتے ہیں۔کثرتِ ازدواج کی اسلامی بنا فرمایا کہ اگرچہ عورت بجائے خودپسند نہیں کرتی کہ کوئی اور اس کی سَوت آوے مگر اسلام نے جس اُصول پر کثرتِ ازدواج کو رکھا ہے وہ تقویٰ کی بنا پر ہے۔بعض اوقات اولاد نہیں ہوتی اور بقائے نوع کا خیال انسان میں ایک فطرتی تقاضا ہے اس لئے دوسری شادی کرنے میں کوئی عیب نہیں ہوتا۔بعض اوقات پہلی بیوی کسی خطر ناک مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بہت سے اسباب اس قسم کے ہوتے ہیں۔پس اگر عورتوں کوپورے طور پر خدا تعالیٰ کے احکام سے اطلاع دی جاوے اور ا نہیں آگاہ کیا جاوے تو وہ خود بھی دوسری شادی کی ضرورت پیش آنے پر ساعی ہوتی ہیں۔ایک رؤیا فرمایا۔رات میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے یعنی ۱۷؍نومبر کی رات کو جس کی صبح کو ۱۸؍نومبر تھی اور وہ رؤیا یہ ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک سپاہی وارنٹ لے کر آیا ہے اور اس نے میرے ہاتھ پر ایک رسی سی لپیٹی ہے تو میں اسے کہہ رہا ہوں کہ یہ کیا ہے۔مجھے تو اس سے ایک لذّت اور سرور آرہا ہے۔وہ لذّت ایسی ہے کہ میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔پھر اسی اثنا میں میرے ہاتھ میں معاً ایک پروانہ دیا گیا ہے کسی نے کہا کہ یہ اعلیٰ عدالت سے آیا ہے۔وہ پروانہ بہت