ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 31

بیوی سے حسن سلوک اس سے یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جاوے۔نہیں نہیں۔ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں۔دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔نہ یہ کہ ہر ادنیٰ بات پر زدو کوب کرے۔ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض وقت ایک غصہ میں بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنیٰ سی بات پر ناراض ہو کر اس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی مر گئی ہے اس لئے ان کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النّساء: ۲۰ ) ہاں اگر وہ بے جا کام کرے تو تنبیہ ضروری چیز ہے۔انسان کو چاہیے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جما دے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین اور بدعت کے خلاف ہو کبھی بھی پسند نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ اس کی کسی غلطی پر بھی چشم پوشی نہیں کر سکتا۔خاوند عورت کے لئے اللہ تعالیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سوا کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔پس مرد میں جلالی اور جمالی دونوں رنگ موجود ہونے چاہئیں۔اگر خاوند عورت سے کہے کہ تو اینٹوں کا ڈھیر ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دے تو اس کا حق نہیں ہے کہ اعتراض کرے۔مرشد اور مرید کا تعلق ایسا ہی قرآن کریم اور حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مرشد کے ساتھ مرید کا تعلق ایسا ہونا چاہیے جیسا عورت کا تعلق مرد سے ہو۔مرشد کے کسی حکم کاانکار نہ کرے اور اس کی دلیل نہ پوچھے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ(الفاتـحۃ:۶،۷) فرمایا ہے کہ منعم علیہم کی راہ کے مقیّد رہیں۔انسان چونکہ طبعاً آزادی کو چاہتا ہے پس حکم کر دیا کہ اس راہ کو اختیار کرے۔تجربہ کار ڈاکٹر اگر غلطی بھی کرے تو جاہل کے علاج سے بہتر ہے۔