ملفوظات (جلد 2) — Page 30
نکل گئی۔ایسا ہی غلام محی الدین کوتلی کشمیر کا ممبر یکدفعہ ہی مَر گیا۔غرض موت کے آجانے کا ہم کو کوئی وقت معلوم نہیں کہ کس وقت آجاوے۔اسی لیے ضروری ہے کہ اس سے بے فکر نہ ہوں۔پس دین کی غم خواری ایک بڑی چیز ہے جو سکرات الموت میں سر خرو رکھتی ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ (الـحج:۲) ساعت سے مراد قیامت بھی ہو گی۔ہم کو اس سے انکار نہیں مگر اس میں سکرات الموت ہی مراد ہے کیونکہ انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے۔انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یکدفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجب قسم کا زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے۔گویا اندر ہی اندر وہ ایک شکنجہ میں ہوتا ہے۔اس لئے انسان کی تمام تر سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے اور دنیا اور اس کی چیزیںاس کی ایسی محبوبات نہ ہوں جو اس آخری ساعت میں علیحدگی کے وقت اس کی تکالیف کا موجب ہوں۔دنیا اور اس کی چیزوں کے متعلق ایک شاعر نے کہا ہے ؎ ایں ہمہ را بہ کشتنت آہنگ گاہ بصلح کشند و گاہ بجنگ قرآن کریم نے اس مضمون کو اس آیت میں ادا کر دیا ہے اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ (الانفال:۲۹) اَمْوَالُكُمْ میں عورتیں داخل ہیں۔عورت چونکہ پردہ میں رہتی ہے اس لئے اس کا نام بھی پردہ ہی میں رکھا ہے اور اس لئے بھی کہ عورتوں کو انسان مال خرچ کر کے لاتا ہے۔مال کا لفظ مائل سے لیا گیا ہے یعنی جس کی طرف طبعاً توجہ اور رغبت کرتا ہے۔عورت کی طرف بھی چونکہ طبعاً توجہ کرتا ہے اس لئے اس کو مال میں داخل فرمایا ہے۔مال کا لفظ اس لئے رکھا تا کہ عام محبوبات پرحاوی نہ ہو۔ورنہ اگر صرف نساء کا لفظ ہوتاتو اولاد اور عورت دو چیزیں قرار دی جاتیں اور اگر محبوبات کی تفصیل کی جاتی تو صرف پھر دس جزو میں بھی ختم نہ ہوتا۔غرض مال سے مراد کُلَّ مَا یَـمِیْلُ اِلَیْہِ الْقَلْبُ ہے۔اولاد کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ انسان اولاد جگر کا ٹکڑہ اور اپنا وارث سمجھتا ہے۔مختصر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور انسان کے محبوبات میں ضد ہے۔دونوں باتیں یکجا جمع نہیں ہو سکتیں۔