ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 343

نئی طرز کا ہے۔۱ ۱۴؍ نومبر ۱۹۰۱ء سچی شہادت کو چھپانا اچھا نہیں فرمایا۔دنیا چند روزہ ہے۔شہادت کو چھپانا اچھا نہیں۔دیکھو! بادشاہ کے پاس جب کو ئی تحفہ لے کر جائے مثلاً سیب ہی ہو اور سیب ایک طرف سے داغی ہو تو وہ اس تحفہ پر کیا حاصل کرسکے گا۔مخفی ہونے میں بہت سے حقوق تلف ہو جاتے ہیں مثلاً نماز با جماعت ،بیمار کی عیادت،جنازہ کی نماز،عیدین کی نماز، وغیرہ یہ سب حقوق مخفی رہ کر کیونکر ادا کئے جا سکتے ہیں۔مخفی رہنے میں ایمان کی کمزوری ہے۔انسان اپنے ظاہری فوائد کو دیکھتا ہے مگر وہ بڑی غلطی کرتا ہے۔کیا تم ڈرتے ہوکہ سچی شہادت کے ادا کرنے سے تمہاری روزی جاتی رہے گی؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ( الذّٰریٰت :۲۳،۲۴) تمہارا رزق آسمان میں ہے۔ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے یہ سچ ہے۔زمین پر خدا کے سواکون ہے جو اس رزق کو بند کر سکے یا کھول سکے۔اور فرماتا ہے وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ( الاعراف : ۱۹۷ ) نیکوں کا وہ آپ والی بن جاتا ہے۔پس کون ہے جو مرد صالح کو ضرر دے سکے؟ اور اگر کوئی مصیبت یا تکلیف انسان پر آ پڑے مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ( الطلاق : ۳ ) جو خدا کے آگے تقویٰ اختیار کرتا ہے خدا اس کے لئے ہر ایک تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بتا دیتا ہے۔اور فرمایا وَ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ( الطلاق : ۴ ) وہ متقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق آنے کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔وعدوں کے سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کون ہے۔پس خدا پر ایمان لاؤ۔خدا سے ڈرنے والے ہرگز ضائع نہیں ہوتے۔يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا( الطلاق : ۳ )یہ ایک وسیع بشارت ہے۔تم تقویٰ اختیار کرو۔خدا تمہارا کفیل ہو گا۔اس کا جو وعدہ ہے وہ سب پورا کر دے گا۔مخفی رہنا