ملفوظات (جلد 2) — Page 342
طرف سے وہ تمام فیوض بنی نوع کو حسب استعداد پہنچاتا ہے۔پس ایک تعلق اس کا الوہیت سے اور دوسرا بنی نوع سے۔جیسا کہ اس آیت میں صاف معلوم ہوتا ہے یعنی پھر نزدیک سے(یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر نیچے کی طرف اترا (یعنی مخلوق کی طرف اترا۔یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا) پس وہ ان تعلقاتِ قرب کے مراتب ِتام کی وجہ سے دو قوسوں کے وتر کی طرح ہو گیا بلکہ قوس الوہیت اور عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ قرب ہو گیا۔چونکہ دُنُوّ قرب سے اَبْلَغْ تَر ہے اس لئے خدا نے اس لفظ کو استعمال فرمایا اور یہی نقطہ جو برزخ۔بین اللہ وبین الـخلق ہے۔نفسی نقطہ سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا سے لیتے اور بنی نوع کو پہنچاتے ہیں اس لئے آپ کا نام قاسم بھی ہے۔وَضْعِ عَالَم میں وحدت فرمایا۔وضع عالم میں خدا تعالیٰ نے توحید کا ثبوت رکھ دیا ہے۔وضع عالم میں کرویّت ہے۔پانی، ستارے، آگ وغیرہ یہ چیزیں سب گول ہیں۔چونکہ کرّہ میں وحدت ہوتی ہے اس لحاظ سے کہ اس میں جہات نہیں ہوتی ہیں۔پس یہ وضع عالم میں توحید الٰہی کا ثبوت ہے۔پانی کا ایک قطرہ دیکھو تو وہ گول ہوگا۔ایسا ہی اجرام بھی اور آگ بھی۔آگ کی ظاہری حالت سے کوئی اگر کہے کہ یہ گول نہیں ہوتی تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ آگ کا شعلہ دراصل گول ہوتا ہے مگر ہوا اس کو منتشر کرتی ہے۔عیسائیوں نے بھی یہ بات مان لی ہے کہ جہاں تثلیث نہیں پہنچی یعنی تثلیث کی تبلیغ نہیں ہوئی وہاں ان سے توحید کی باز پرس ہو گی کیونکہ وضع عالم میں توحید کا ثبوت ملتا ہے۔اگر خدا تین ہوتے تو ضرور تھاکہ سب اشیاء مثلّث نما ہوتیں۔وضع عالم کی کرویّت سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ آدم ہی سے شروع ہو کر آدم ہی پر سلسلہ ختم ہوتا ہے کیونکہ محیط دائرہ کا خط جس نقطہ سے چلتا ہے اس پر ہی جا کر ختم ہو جاتا ہے۔اسی لئے مسیح موعود جو خاتم الخلفاء ہے اس کا نام بھی خدا نے آدم ہی رکھا ہے۔چنانچہ براہین احمدیہ میں درج ہے اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ چونکہ مسیح موعود نئی طرز کا آدم ہے اس لئے اس کے ساتھ بھی شیطان