ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 344

ایمان میں ایک نقص ہے۔جو مصیبت آتی ہے اپنی کمزوری سے آتی ہے۔دیکھو! آگ دوسروںکو کھاجاتی ہے پر ابراہیمؑ کو نہ کھا سکی مگر خدا کی راہ بغیر تقویٰ کے نہیں کھلتی۔تقویٰ اختیار کرو معجزات دیکھنے ہوں تو تقویٰ اختیار کرو۔ایک وہ لوگ ہیں جو ہر وقت معجزات دیکھتے ہیں۔دیکھو! آجکل میں عربی کتاب اور اشتہار لکھ رہا ہوں۔اس کے لکھنے میں سطر سطر میں مَیں معجزہ دیکھتا ہوں۔جبکہ مَیں لکھتا لکھتا اٹک جاتا ہوں تو مناسبِ موقع فصیح وبلیغ پُر معانی ومعارف فقرات والفاظ خدا کی طرف سے الہام ہوتے ہیں اور اس طرح عبارتیں کی عبارتیں لکھی جاتی ہیں۔اگرچہ میں اس کولوگوں کی تسلی کے لئے پیش نہیں کر سکتا مگر میرے لئے یہ ایک کافی معجزہ ہے۔اگرمیں اس بات پر قسم بھی کھا کر کہوں کہ مجھ سے پچاس ہزار معجزہ خدا نے ظاہر کرایا تب بھی جھوٹ ہرگز نہ ہو گا۔ہر ایک پہلو میں ہم پر خدا کی تائیدات کی بار ش ہو رہی ہے۔عجب تر ان لوگوں کے دل ہیں جو ہم کو مفتری کہتے ہیں۔مگر وہ کیا کریں۔ع ولی را ولی می شناسد کوئی تقویٰ کے بغیر ہمیں کیونکر پہچانے۔رات کو چور چوری کے لئے نکلتا ہے۔اگر راہ میں گوشہ کے اندر وہ کسی ولی کو بھی دیکھے جو عبادت کر رہا ہو وہ بھی سمجھے گا کہ یہ بھی میری طرح کوئی چور ہے۔خدا عمیق در عمیق چھپا ہوا ہے اور ایسا ہی وہ ظاہر د رظاہر ہے۔اس کا ظہور اتنا ہوا کہ وہ مخفی ہوگیا۔جیسا سورج کہ اس کی طرف کوئی دیکھ نہیں سکتا۔خدا کا پتہ حق الیقین کے ساتھ نہیں پا سکتے جب تک کہ تقویٰ کی راہ میں قدم نہ ماریں۔دلائل کے ساتھ ایمان قوی نہیں ہو سکتا۔بغیر خدا کی آیات دیکھنے کے ایمان پورا نہیں ہو سکتا۔یہ اچھا نہیں کہ کچھ خدا کا ہو اور کچھ شیطان کا ہو۔صحابہؓ کو دیکھو کس طرح اپنی جانیں نثار کیں۔ابو بکرؓ جب ایمان لایا تو اس نے دنیا کا کون سا فائدہ دیکھا تھا۔جان کا خطرہ تھا اور ابتلا بڑھتا جاتا تھا مگر صحابہؓ نے صدق خوب دکھایا۔ایک صحابی کا ذکر ہے وہ کملی اوڑھے بیٹھا تھا۔کسی نے اس کو کچھ کہا۔عمرؓ پاس سے دیکھتے تھے۔انہوں نے فرمایا اس شخص کی عزّت کرو۔میں نے اس کو دیکھا ہے کہ یہ گھوڑے پر سوار ہوتا تھا اور اس کے آگے پیچھے کئی کئی نوکر چلتے تھے۔صرف دین کی