ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 340

رائے کو چھوڑ دینے سے پیدا ہوا ہے اسی طرح بے ایمانی تکبّر اور انانیت سے پیداہو تی ہے۔اس لئے اس کے نتیجہ میں زَقُّوْم کا درخت دوزخ میں ہوا اور وہ بد اعمالیاں اور شوخیاں جو اس تکبر و خود بینی سے پیدا ہوتی ہیں وہ وہی کھولتا ہوا پانی یا پیپ ہو گی جو دوزخیوں کو ملے گی۔اب یہ کیسی صاف بات ہے کہ جیسے بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے اسی طرح پر دوزخ کی زندگی بھی یہاں ہی سے انسان لے جاتا ہے جیسا کہ دوزخ کے باب میں فرمایا ہے نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ ( الھمزۃ : ۷،۸ ) یعنی دوزخ وہ آگ ہے جو خدا کا غضب اس کا منبع ہے اور وہ گناہ سے پیدا ہو تی اور پہلے دل پر غالب ہوتی ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آگ کی جڑ وہ ہموم غموم اور حسرتیں ہیںجو انسان کو آگھیرتی ہیں کیونکہ تمام روحانی عذاب پہلے دل سے ہی شروع ہوتے ہیں۔جیسے تمام روحانی سروروں کا منبع بھی دل ہے اوردل ہی سے شروع ہونے بھی چاہئیں کیونکہ دل ہی ایمان یا بے ایمانی کا منبع ہے۔ایمان یا بے ایمانی کا شگوفہ بھی پہلے دل ہی سے نکلتا ہے اور پھر تمام بدن اور اعضاء پر اس کا عمل ہوتا ہے اور سارے جسم پر محیط ہو جاتا ہے۔پس یاد رکھو کہ بہشت اور دوزخ اسی دنیا سے انسان ساتھ لے جاتا ہے اور یہ بات بھولنی نہ چاہیے کہ بہشت اور دوزخ اس جسمانی دنیا کی طرح نہیں ہے بلکہ ان دونوں کا مبدء اور منبع روحانی امور ہیں۔ہاں یہ سچی بات ہے کہ عالم معاد میں وہ جسمانی شکل پر ضرور متشکل ہو کر نظر آئیں گے۔یہ ایک بڑا ضروری مضمون ہے جس پر ساری قوموں نے دھوکا کھایا ہے اور اس کی حقیقت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے کوئی خدا ہی کا منکر ہو بیٹھا ہے اور کوئی تناسخ کا قائل ہو گیا۔کسی نے کچھ تجویز کیا اور کسی نے کچھ۔اگر خدا تعالیٰ نے ہمیں کوئی موقع دیا تو ہمارا ارادہ ہے کہ اس پر بسط کے ساتھ بڑی بحث کریں۔اسی کی مرضی اور توفیق پر موقوف ہے ورنہ ہم تو ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے۔حیات کی تین اقسام سلسلہ کلام روح سے شروع ہوا۔فرمایا۔نباتی،حیوانی اور انسانی تین قسم کی جان مانی گئی ہے۔بعض حکماء نباتات میں شعور اور حس کے بھی قائل ہیں چنانچہ بہت اسی قسم کے درخت اور پودے پائے گئے ہیں