ملفوظات (جلد 2) — Page 341
جن پر مختلف امور اثر کرتے ہیں مثلاً چھوئی موئی کا درخت۔جب انسان اسے ہاتھ لگاتا ہے فوراً مرجھا جاتی ہے اور اسی قسم کے بہت سے درخت ایسے ہوتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز میں خدا نے ایک برزخ رکھا ہوا ہے۔نباتات اور حیوانات کے درمیان وہ نباتات جن میں حس و شعور ہے وہ برزخ ہیں جو بہت بڑا حصہ انسانی عقول کا رکھتے ہیں۔اسی برزخ کے نہ سمجھنے سے بعض کو یہ دھوکا لگا ہے کہ انسان بندر سے ترقی کر کے انسان بنا ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔یہ تمام برزخ جو مخلوقات میں موجود ہیں وہ وحدتِ خَلقی کی دلیل ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک دلیل ہیں اور افسوس ہے کہ نا واقف اور نا اہل اس سے کوئی لطف نہیں اٹھا سکتے۔بچہ جب بننے لگتا ہے تو ساری چیزیں اکٹھی ہی بنتی جاتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں پیدائش انسان کا مفصّل ذکر ہے۔بعض لوگوں کی سمجھ میں جب اس کی حقیقت نہ آئی تو اعتراض کر دیا ہے مگر مشاہدہ سے یہی سچ ثابت ہوا ہے۔چنانچہ میں نے ایک بار ایک انڈے کو توڑا اور اس کو ایک برتن میں ڈال دیا۔میں اس کے وسط میں ایک نقطہ دیکھتا تھا جو دل کی حرکت کی طرح حرکت کرتا تھا اور میں نے نہایت غور کے ساتھ جو دیکھا تو اس نقطہ سے مختلف جہات میں کچھ خطوط سے گئے ہوئے تھے۔کوئی ان میں سے دماغ کی طرف تھا کوئی جگر کی طرف وغیرہ۔میں کئی منٹ تک یہ تماشا دیکھتا رہا اور بعض عورتوں نے بھی اس کو دیکھا۔غرض قرآن نے جوکچھ اس کی حقیقت بیان کی ہے وہ صحیح ہے۔ہاں جو یہ برزخ ہیںیہ وحدتِ خلقی کی دلیل ہیں۔اسی طرح پر انسان اور خدا کے درمیان بھی ایک برزخ ہے اور وہ تجلّیات ہیں۔چنانچہ اس مقام اور مرتبہ کی طرف خدا تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (النجم :۹،۱۰) یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوِّمرتبہ کا بیان ہے کیونکہ یہ مرتبہ اس انسان کامل کو مل سکتا ہے جو عبودیت اور الوہیت کی دونوں قوسوں کے درمیان ہو کر ایسا شدید اور قوی تعلق پکڑتا ہے گویا ان دونوںکا عین ہو جاتا ہے اور اپنے نفس کو درمیان سے اٹھا کر ایک مصفّا آئینہ کا حکم پیدا کر لیتا ہے اور اس تعلق کی دو جہتیں ہوتی ہیں۔ایک جہت سے یعنی اوپر کی طرف سے وہ تمام انوار وفیوضِ الٰہیہ کو جذب کرتا ہے اور دوسری