ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 324

۲؍نومبر ۱۹۰۱ء فرمایا کہ ابنِ صیّاد مجھے تعجب ہے کہ کیوں بے چارے ابنِ صیّاد پر یہ ظلم کیا جاتا ہے کہ خواہ نخواہ اسے دجّال بنایا جاتا ہے حالانکہ ساری عمر میں اس سے کوئی شرارت ظاہر نہیں ہوئی بلکہ اس نے مسلمان ہو کر جہاد میں اپنی جان دی اور شہید ہوا اور حج کیا ،مجھے تو یہ مظلوم نظر آتا ہے اور اس لئے وہ اس قابل ہے کہ اسے رضی اللہ عنہ کہا جاوے یہ صرف بلا سوچے سمجھے مورد اعتراض ٹھہرایا گیا ہے۔اس پر حضرت مولوی نور الدین صاحب نے فرمایا کہ حضور!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو مدینہ سے نکال بھی دیا اور بعض کو قتل بھی کیا گیا مگر ابنِ صیّاد کو آپ نے نہیں نکالا۔اگر وہ ایسا ہی دجّال تھا جیسا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں تو اسے کیوں چھوڑا؟ پھر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ حقیقت میں یہ اعتراض بہت صحیح ہے اور اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔میری رائے یہی ہے کہ وہ ایک سچا مسلمان تھا۔اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نبی الامین کہہ کر کی اور اس کی ماں بھی معلوم ہوتا ہے مسلمان تھی۔یہ حضرت ابنِ صیّاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ مظلوم ہیں۔۳؍نومبر ۱۹۰۱ء عیسٰیؑ اور یسوع میں فرق حسبِ معمول بیٹھتے ہی حضرت مسیحؑ کا تذکرہ شروع ہو گیا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضو ر عیسیٰ اور یسوع میں فرق ہے عیسائی کبھی عیسیٰ ابن مریم نہیں بولتے بلکہ بعض تو بُرا سمجھتے ہیں۔ان کے ہاں یسوع ہے۔عبرانی میں عین نہیں بولتے۔یسو کہتے ہیں اور قرآن نے کہیں یسو کا تذکرہ نہیں کیا۔انجیل پر کہیں کتاب کا لفظ نہیں بولا گیا۔اس پر جب یہ آیت پیش کی گئی کہ مسیح نے کہا ہے اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ