ملفوظات (جلد 2) — Page 323
دیا اور انہوں نے یہ ظلم پر ظلم کیا کہ ایک تارکہ اور نذر دی ہو ئی لڑکی کا اپنی شریعت کے خلاف نکاح کیا اور پھر حمل میں نکاح کیا۔اس طرح پر انہوں نے شریعت موسوی کی توہین کی اور با ایں حضرت مسیحؑ کی پاک پیدائش پر نکتہ چینی کی اور ایسی نکتہ چینی جس کو ہم سن بھی نہیں سکتے۔ان کے مقابلے میں عیسائیوں نے کیا کیا؟ عیسائیوں نے حضرت مسیحؑ کی پیدائش کو تو بے شک اعتقادی طور پر روح القدس کی پیدائش قرار دیا اور خود خدا ہی کو مریم کے پیٹ سے پیدا کیا مگر تعدّدِ ازواج کو ناجائز کہہ کر وہی اعتراض اس شکل میں حضرت مریم کی اولاد پر کر دیا اور اس طرح پر خود مسیحؑ اور ان کے دوسرے بھائیوں کی پیدائش پر حملہ کیا۔واقعی عیسائیوں نے تعدّدِ ازواج کے مسئلہ پر اعتراض کر کے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ہم تو حضرت مسیحؑ کی شان بہت بڑی سمجھتے ہیں اور اسے خدا کا سچا اور برگزیدہ نبی مانتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ آپ کی پیدائش باپ کے بدوں خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک نمونہ تھی اور حضرت مریم ؑصدیقہ تھیں۔یہ قرآن کریم کا احسان ہے حضرت مریمؑ پر اور حضرت مسیحؑ پر جو ان کی تطہیر کرتا ہے اور پھر یہ احسان ہے اس زمانہ کے موعود امام کا کہ اس نے از سر نو اس تطہیر کی تجدید فرمائی۔اس پر حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُـحَمَّدٍ۔لاریب ’’امہات المومنین‘‘ کا عجیب جواب ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا انتقام۔اس کے بعد پھر حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں یہ سارے اعتراض جمع کر کے خود حضرت مسیحؑ کی طرف سے جواب دوںگا اور ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ بھی مسیحؑ سے کرتا جاؤں گا۔اس کے بعد مفتی صاحب نے وہ اعتراض پڑھ کر سنائے جو فری تھنکروں اور یہودیوںنے حضرت مسیحؑ پر کئے ہیں۔زاں بعد مرزا خدا بخش صاحب نے اپنی کتاب کا کچھ حصہ سنایا پھر نماز عشاء ہوئی۔۱