ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 325

اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ ( مریم :۳۱) تو اس کی لطیف تشریح فرمائی۔اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ سے مراد فہمِ کتاب ہے۔۱ دعا کے اصول حضرت اقدس حسب معمول سیر کو نکلے۔سیٹھ احمد الدین صاحب بھی ساتھ تھے۔مولوی برہان الدین صاحب نے عرض کیا کہ سیٹھ صاحب کا ایک لڑکا ہوا تھا وہ فوت ہو چکا ہے۔حضور دعا کریں۔فرمایا۔ہاں میں دعا کروں گا مگر ساری باتیں ایمان پر منحصر ہیں۔ایمان جس قدر قوی ہو اسی قدر خدا تعالیٰ کے فضل سے حصہ ملتا ہے۔خدا کے پاس کیا نہیں۔اگر ایمان قوی نہ ہو تو انسان خدا سے بد ظن ہوجاتا ہے اور پھر تعویذ گنڈے کرنے لگتا ہے اور غیر اللہ کی طرف جھک جاتا ہے۔پس مومن بننا چاہیے۔دعا کے لئے اصول ہیں میں نے بہت دفعہ بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کبھی اپنی منواتا ہے اور کبھی مومن کی مانتا ہے اس کے سوا چونکہ ہم تو علیم نہیں اور نہ اپنی ضرورتوں کے نتائج سے آگاہ ہیں اس لئے بعض وقت ایسی چیزیں مانگ لیتے ہیں جو ہمارے لئے مضر ہوتی ہیں۔پس وہ دعا تو قبول کر لیتا ہے اور جو دعا کرنے والے کے واسطے مفید ہوتا ہے وہ اسے عطا کرتا ہے۔جیسے ایک زمیندار کسی بادشاہ سے ایک اعلیٰ درجہ کا گھوڑ امانگے اور بادشاہ اس کی ضرورت کو سمجھ کر اسے عمدہ بیل دے دے۔تو اس کے لئے وہی مناسب ہو سکتا ہے۔دیکھو! ماں بھی تو بچے کی ہرخواہش کو پورا نہیں کرتی۔اگر وہ سانپ یا آگ کو لینا چاہے تو کب دیتی ہے؟پس خدا تعالیٰ سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اور تقویٰ اور ایمان میں ترقی کرنی چاہیے۔ریا فرمایا۔ریا کی رفتار بہت دھیمی ہوتی ہے اور وہ چیونٹی سے بھی باریک چلتی ہے۔ہر تحسین اور توہین میں ریا کا ایک شعبہ ہوتا ہے۔یہاں تک کہ مومن کو چاہیے اگر اسے کسی طرف سے کوئی نیکی اور فائدہ پہنچے اگر وہ اس کی تحسین سے پہلے خدا کی تعریف نہیں کرتا تو یہ بھی ریا میں داخل ہے۔ایسا ہی کسی تکلیف یا بدی کے وقت ضروری ہے کہ خدا کی حکمت کو مد نظر رکھے۔مومن کا کمال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ان تعلقات کو جو خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتا ہے کبھی پسند نہیں کرتا کہ دوسروں کو اس کا