ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 320

کی پروا نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔چونکہ دن چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ دن کدھر جاتا ہے۔اسی وقت خبر ہوتی ہے جب شام کی نماز کے لئے وضو کرنے کے واسطے پانی کا لوٹا رکھ دیا جاتا ہے۔اس وقت مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کاش اتنا دن اور ہوتا حالانکہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں مگر جب پاخانہ کی حاجت بھی ہوتی ہے تو مجھے رنج ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی اور ایسا ہی روٹی کے لئے جب کئی مرتبہ کہتے ہیں تو بڑا جبر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہوں۔بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتا بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھاتا ہوں۔میری توجہ اور خیال اسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے۔پس یہ کام بہت ضروری ہے اور خدا چاہے تو یہ ایک نشان ہو گا جس کی نظیر لانے پر کوئی قادر نہ ہو گا۔ناظرین!حضرت اقدس کے اس جوش کا کسی قدر پتہ ان الفاظ سے مل سکتا ہے جو آپ کو اعلائے کلمۃ الاسلام کے لئے حق نے عطا فرمایا ہے۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم کس دھن میں ہیں اور وہ کس خیال میں پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمانے لگے کہ اگرچہ یہ کتاب بظاہر کوئی عجیب اور اعجاز نظر نہ آتی ہو مگر اس کی اشاعت پر دنیا کو معلوم ہو جائے گا۔جب ہم نے مہو تسو کے لئے مضمون لکھنا شروع کیا تو ہمارے ایک دوست نے اپنے خیال کے موافق کچھ خوشی ظاہر نہ کی مگر خدا تعالیٰ نے الہاماً خوشخبری دی کہ وہ مضمون بالا رہا۔چنانچہ یہ اشتہار جلسہ سے پہلے ہی شائع کر دیا گیا۔آخر جب وہ جلسہ میں پڑھا گیا تو اس کی عظمت اور اس کے حقائق کو سب نے تسلیم کیا یہاں تک تسلیم کہ لاہور کے انگریزی، اردو اخبا رات نے اس کے بالا رہنے کا اعتراف کیا۔اسی طرح پر جب یہ کتاب شائع ہو کر باہر نکلے گی تب پتہ لگے گا۔میں نے ایک بار ایک شخص کو دہلی سے عطر لانے کے لئے کہا وہ کہنے لگا کہ جب میں عطار کی دکان پر گیا تو جو عطر وہ دکھاتا تھا میں اس کو ہی واپس کر دیتا تھا۔آخر عطار نے کہا کہ میاں تم یہاں دوکان میں بیٹھے ہو تمہیں پتہ نہیں لگتا۔جب دوکان سے باہر لے کر جاؤ گے تب اس عطر کی حقیقت معلوم ہو گی