ملفوظات (جلد 2) — Page 321
چنانچہ جب وہ عطر لے کر آیا تو اس نے بیان کیا کہ جو گاڑیاں ہم سے پیچھے آتی تھیں ان کے سوار کہتے تھے کہ کس کے پاس عطر ہے گویا اس کی اتنی خوشبو تھی۔اس قسم کی باتیں ہو تی رہیں۔اپنے دعویٰ کی صداقت اور اپنے مامور من اللہ ہونے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے رابطہ کے ایسے شدید اور گاڑھے تعلق ہونے پر کہ کوئی دوسرا آج زمین پر ویسا نہیں۔اپنی دعاؤں کی قبولیت پر کچھ فرماتے رہے پھر مرزا خدا بخش صاحب ابوا لعطاء کی کتاب’’عسلِ مصفٰی‘‘ سننے لگے اور اس کے ضمن میں المسیح الدجال پر ایک پُر جوش اور لطیف تقریر فرمائی جو بالکل اچھوتی اور نئی تھی اور کسی تحریر میں ابھی تک نہیں آئی، یہ وہ تقریر ہے جو دجّال کی حقیقت اور اس کے خاص پُتلے کو ہر ایک کے سامنے کر دیا جائے گا۔کوئی ہی ایسا بد بخت ہو گا جو اس کے بعد بھی منکر رہے۔۱ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۱ء فونو گراف کے ذریعہ تبلیغ حضرت اقدسؑ حسبِ معمول سیر کو تشریف لے گئے۔راستہ میں فونو گراف کی ایجاد اوراس سے اپنی تقریر کو مختلف مقامات پر پہنچانے کا تذکرہ ہوتا رہا۔چنانچہ یہ تجویز کی گئی کہ اس میں حضرت اقدسؑ کی ایک تقریر عربی زبان میں بند ہو جو چار گھنٹہ تک جاری رہے اور اس تقریر سے پہلے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی تقریر ایک انٹرو ڈکٹری نوٹ کے طور پر جس کا مضمون اس قسم کا ہو کہ انیسویں صدی مسیحی کے سب سے بڑے انسان کی تقریر آپ کو سنائی جاتی ہے۔جس نے خدا کی طرف سے مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اورجو مسیح موعود اور مہدی معہود کے نام سے دنیا میں آیا ہے اور جس نے ارضِ ہند میں ہزاروں لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور جس کے ہاتھ پر ہزاروں تائیدی نشان ظاہر ہوئے۔خدا تعالیٰ نے جس کی ہر میدان میں نصرت کی۔وہ اپنی دعوت بلاد اسلامیہ میں کرتا ہے سامعین خود اس کے منہ سے سن لیں کہ اس کا کیا دعویٰ ہے اور اس کے دلائل اس کے پاس کیا ہیں۔اس قسم کی