ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 319

والے لکھتے ہیںان کی مثال پتھروں کی سی ہے کہ سخت، نرم، سیاہ، سفید پتھر جمع کر کے رکھے جائیں۔مگر یہ تو ایک لذیذ اور شیریں چیز ہے جس میں حقائق اور معارف قرآنی کے اجزا ترکیب دیئے گئے ہیں۔غرض جو بات روح القدس کی تائید سے لکھی جاوے اور جو الفاظ اس کے القا سے آتے ہیں وہ اپنے ساتھ ایک حلاوت رکھتے ہیں اور اس حلاوت میں ملی ہوئی شوکت اور قوت ہوتی ہے جو دوسروں کو اس پر قادر نہیں ہونے دیتی۔یہ غرض بہت بڑا نشان ہو گا۔پھر اسی سلسلہ کلام میں کہ مسیح کی سوانح پر نکتہ چینیوں کو ہم لکھنا چاہتے ہیں اور یہودی اور فری تھنکروں کے اعتراضوں کے جواب دینا چاہتے ہیں۔فرمایا۔اس طرز کے اختیار کرنے سے مدعا یہ ہے کہ مسیح کی خدائی باطل کی جاوے۔یہ اعتقاد ظلم عظیم ہے۔اور مجھے تو ،خدا کی قدرت ہے کہ شروع سے جبکہ ابھی میں طالب علم ہی تھا اس کی تردید کا ایک جوش خدا نے دیا تھا۔گویا میری سرشت میں یہ بات رکھ دی تھی۔چنانچہ جب پادری فنڈر صاحب نے اپنی کتابیں شائع کیں تو ۱۸۵۹ء یا ۱۸۶۰ ء کا ذکر ہے کہ میں مولوی گل علی شاہ صاحب کے پاس جو ہمارے والد صاحب نے خاص ہمارے لئے استاد رکھے ہوئے تھے،پڑھا کرتا تھا اور اس وقت میری عمر سولہ سترہ برس کی ہو گی تو اس کی میزان الحق دیکھنے میں آئی۔ایک ہندو نے جو میرا ہم مکتب تھا اس کی فارسی کو دیکھ کر اس کی بڑی تعریف کی۔میں نے اس کو بہت ملزم کیا اور بتایا کہ اس کتاب میں بجز نجاست کے اور کچھ نہیں ہے تُو نری زبان پر جاتا ہے۔اس وقت سے خدا نے اس جوش میں ترقی کی ہے اور میرے رگ وریشہ میں یہ بات پڑی ہوئی ہے کہ اس افترا کے پتلے کو تباہ کیا جاوے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ آجکل جو نمازیں جمع کی جاتی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے فرمایا تھا کہ اس کے لئے نمازیں جمع کی جاویں گی تو یہ عظیم الشان پیش گوئی پوری ہو رہی ہے۔میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں پھر بھی آجکل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دورانِ سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے مگر میں اس بات